قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد سینیٹ میں بھی آرمی سروسز ترمیمی بل پیش

Last Updated On 07 January,2020 11:15 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد سینیٹ میں بھی پاک آرمی ترمیمی ایکٹ بل 2020 پیش کر دیا گیا، چیئرمین سینیٹ نے تینوں بلز قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے سپرد کر دئیے۔ جے یو آئی، جماعت اسلامی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے بل کی مخالفت کی، ایوان بالا کا اجلاس بدھ سہ پہر تین بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

قومی اسمبلی نے آرمی، فضائیہ اور نیوی ایکٹ ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس سپکر اسد قیصر کی صدارت میں ہوا، ایوان میں کارروائی کے آغاز پر دفاع کے لیے قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے آرمی، نیوی ، ایئر فورس سے متعلق ترمیمی بل پیش کیے۔ وزیرِ دفاع کی درخواست پر پیپلز پارٹی نے ترامیم سے متعلق اپنی سفارشات واپس لے لیں۔

وزیرِ دفاع نے سروسز ایکٹ ترمیمی بل ایوان میں پیش کرنے کی تحریک پیش کی۔ ایوان نے رائے شماری کے بعد سروسز ایکٹ ترمیمی بل ایوان پیش کرنے کی تحریک منظور کی۔ آرمی، نیوی اور ایئر فورس سے متعلق ترمیمی بل کی شق وار منظوری عمل میں لائی گئی۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان بھی ایوان میں موجود تھے۔

جے یو آئی ف اور جماعت اسلامی کے اراکین بل پیش ہوتے ہی ایوان سے باہر چلے گئے۔ انہوں نے کارروائی میں حصہ نہیں لیا، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون نے بل کی حمایت کی۔ قومی اسمبلی کا اجلاس سروسز ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری کے بعد بدھ کی شام 4 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

خیال رہے گزشتہ روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سمیت تینوں مسلح افواج سے متعلق سروسز ایکٹ میں ترمیمی بلز متفقہ طور پر منظور کئے۔

قائمہ کمیٹی دفاع کا اجلاس چیئرمین امجد علی خان کی زیر صدارت ہوا، وزیر دفاع پرویز خٹک سمیت وزارت دفاع کے حکام نے شرکت کی، اجلاس کے دو سیشن ہوئے، پہلے سیشن کا ایجنڈا معمول کے امور پر تھا جبکہ دوسرے سیشن میں آرمی، نیوی اور ایئر فورس ایکٹس میں ترامیم کا معاملہ ان کیمرا زیر بحث آیا۔

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے تینوں بلوں کے پہلوؤں پر بریفنگ دی جس کے بعد تینوں بل متفقہ طور پر منظور ہوئے۔ وزیر دفاع پرویز خٹک نے متفقہ طور پر بل منظور ہونے پر پوری قوم کو مبارکباد دی اور کہا کہ یہ ہم سب کا ملک ہے، فوج کیساتھ تمام جماعتیں اور پورا پاکستان کھڑا ہے۔

وزیر قانون فروغ نسیم نے بتایا کہ اجلاس میں اپوزیشن کی طرف سے ترامیم پیش کی گئیں، اس پر انہیں وضاحت کی کہ اس کیلئے آئین میں ترمیم کرنا ہوگی، اب یہ بل پارلیمنٹ میں جائے گا، اجلاس میں ایک بھی رکن نے مخالفت نہیں کی، اگر بل کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں میں سے کسی کا جائز پوائنٹ ہے تو اس کو لازمی سنیں گے، وزارت قانون تمام جماعتوں کی عزت کرتی ہے، پاکستان کی سکیورٹی اور اداروں کے حوالے سے ترامیم پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔

چیئرمین کمیٹی امجد خان نیازی نے کہا ترمیمی بلز متفقہ طور پر منظور کرنے پر تمام جماعتوں کے شکر گزار ہیں، اپوزیشن کی پیش کردہ ترامیم سنی ہیں تاہم وہ مسودہ قانون کا حصہ نہیں، موجودہ صورتحال میں پوری دنیا کو پیغام دیا کہ جہاں قومی مفاد ہوگا وہاں ہم ایک ہیں، ہمارے نظریات مختلف ہو سکتے ہیں، ہر چیز پر سیاست نہیں ہوتی۔

 

کمیٹی کے حکومتی رکن رمیش کمار نے میڈیا کو بتایا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے بل کی مکمل حمایت کی، اجلاس میں مسلم لیگ ن کی جانب سے محمد خان ڈاھا، ریاض پیرزادہ، اعجاز الحق، پیپلز پارٹی کی جانب سے عامر مگسی، خورشید جونیجو اور آفتاب شعبان میرانی شریک ہوئے جبکہ جے یو آئی (ف) کے رکن صلاح الدین ایوبی نے شرکت نہ کی۔
 

 

Advertisement