موٹروے پر خاتون کی آبروریزی،علاقے کے تمام رہائشیوں کے ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ

Published On 11 September,2020 04:15 pm

لاہور: (دنیا نیوز) موٹروے پر خاتون کی آبروریزی کرنے والے ملزمان ابھی تک آزاد ہیں۔ حکام نے تفتیش کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے علاقے کے تمام افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق گینگ ریپ واقعہ کے بعد شک کی بنیاد پر گرفتار ہونے والے تمام 15 افراد کے ڈی این اے میچ نہیں ہو سکے ہیں، اس لئے حکام کی جانب سے کرول گھاٹی کے تمام رہائشیوں کے ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

دنیا نیوز ذرائع کے مطابق تمام رہائشیوں کے ڈی این اے سیمپلنگ کیلئے کرول گھاٹی کے قریب فیلڈ ہسپتال بنایا جائے گا۔

خیال رہے زیادتی کا واقعہ گجرپورہ رنگ روڈ پر پیش آیا تھا۔ خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ گاڑی پر لاہور سے گوجرانوالہ جا رہی تھی کہ راستے میں پٹرول ختم ہونے پر گاڑی رنگ روڈ پر رو ک لی۔ خاتون پریشانی میں گاڑی سے باہر نکلی اور مدد کیلئے فون کرنے میں مصروف تھی کہ 2 ڈاکو پہنچ گئے۔

ڈاکوؤں نے خاتون پر تشدد کیا اور پھر زبردستی قریبی کرول جنگل میں لے گئے اور بچوں کے سامنے خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ڈاکو ایک لاکھ روپے نقدی، طلائی زیورات ودیگر اشیا بھی لوٹ کر فرار ہو گئے۔ پولیس تھانہ گجرپورہ نے 2 نامعلوم ملزموں کیخلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: موٹروے زیادتی کیس: پولیس تیسرے روز بھی ملزمان کو نہ پکڑ سکی

ادھر پولیس کی جانب سے ملزمان کو تلاش کرنے کی سر توڑ کوششیں جاری ہیں۔ پولیس نے جائے وقوعہ کے اطراف میں موجود کارخانوں اور فیکٹری ملازمین کے کوائف اکھٹے کرنا شروع کر دیئے ہیں، کیمروں سے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کر لی گئی ہے۔

واقعہ کی تحقیقات میں روایتی اور جدید دونوں طریقہ تفتیش کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ کھوجیوں کی مدد سے جائے وقوعہ کے اطراف 5 کلومیٹر کا علاقہ چیک کر کے مشتبہ پوائنٹس مارک کر لئے گئے۔

آئی جی پنجاب کی تشکیل کردہ اعلیٰ سطح سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم تفتیش کے معاملات کے ہر پہلو کو باریک بینی سے دیکھ رہی ہے۔ ایف آئی آر میں نامزد ملزمان سے ملتے جلتے حلیہ جات کے حامل مشتبہ افراد کی پروفائلنگ کی گئی ہے۔

تین مختلف مقامات سے جیو فینسنگ کیلئے موبائل کمپنیوں کے حاصل کردہ ڈیٹا کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔ لوکل کیمرہ جات سے مشتبہ افراد کو ویڈیو ریکارڈنگ حاصل کرکے شناخت کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

پنجاب حکومت نے اس سلسے میں اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دیدی ہے جس کے سربراہ وزیر قانون راجہ بشارت ہیں۔ کمیٹی میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ مومن آغا، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن پنجاب اور ڈی جی فرانزک سائنس ایجنسی شامل ہیں۔ کمیٹی تین روز میں تحقیقات کر کے رپورٹ وزیراعلی پنجاب کو پیش کرے گی۔

وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت واقعہ کی تفتیش میں پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے پولیس حکام کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچے جہاں انھیں بریفنگ بھی دی گئی۔

 

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو اور مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جتنا عوام کا دل دکھی ہے، اتنا ہی حکومت دکھی ہے۔ یہ واقعہ لاہور پولیس اور صوبائی حکومت کیلئے چیلنج ہے۔ عوام کے تحفظ کی ذمہ داری حکومت کی ہے۔ آئندہ کے لئے مضبوط حکمت عملی بنائی جائے گی۔

صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ ہمیں عوام کے جذبات کا اندازہ ہے۔ جو عوام کے جذبات ہیں وہ ہی حکومت کے جذبات ہیں۔ متاثرہ خاتون کا میڈیکل ہو گیا ہے۔ پنجاب حکومت کا تمام فوکس اصل مجرموں تک پہنچنے کا ہے۔ پولیس کی پیٹرولنگ کے لئے مزید کام اور گاڑیاں خریدی جا رہی ہیں۔

سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے بارے سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس معاملے پر مناسب بیان نہیں دیا۔

 

بعد ازاں آئی جی پنجاب انعام غنی نے بھی لاہور سیالکوٹ موٹروے پر جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ انہوں نے نے پنجاب ہائی وے پیٹرول (پی ایچ پی) اور سپیشل پروٹیکشن یونٹ (ایس پی یو) کی مشترکہ ٹیموں کی پٹرولنگ کا جائزہ لیا۔

اس موقع پر انہوں نے ایڈیشنل آئی جی پی ایچ پی، کیپٹن (ر) ظفر اقبال کو مختلف ہدایات جاری کیں اور کہا کہ پولیس ٹیموں کی تعیناتی کا مقصد اس سڑک پر سفر کرنے والوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

آئی جی پنجاب انعام غنی کا کہنا تھا کہ جاری کردہ ایس او پیز کے مطابق شہریوں کو ہر ممکن سیکیورٹی اور سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ پولیس ٹیمیں تعینات ہونے سے شہری محفوظ انداز میں موٹروے کو آمدورفت کیلئے استعمال کر سکیں گے۔

آئی جی پنجاب نے بتایا کہ خاتون سے زیادتی واقعہ کی تفتیش کو جدید سائنسی خطوط پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ پنجاب پولیس بہت جلد ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں پیش کر دے گی۔