تازہ ترین
  • بریکنگ :- اسلام آباد:سینیٹ اجلاس کا رات گئے 8 نکاتی ایجنڈا جاری
  • بریکنگ :- دوروز وقفے کےبعد سینیٹ اجلاس آج صبح ساڑھے10بجے ہوگا
  • بریکنگ :- چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اجلاس کی صدارت کریں گے
  • بریکنگ :- قومی اسمبلی سےمنظور شدہ اسٹیٹ بینک ترمیمی بل پیش کیاجائے گا
  • بریکنگ :- اسلام آباد:وزیرخزانہ شوکت ترین بل منظوری کیلئے پیش کریں گے
  • بریکنگ :- بل آئی ایم یف کی شرائط اوراسٹیٹ بینک کی خودمختاری سےمتعلق ہے

فیٹف قوانین متعین وقت میں منظور نہ ہوتے تو پاکستان بلیک لسٹ ہو جاتا، فروغ نسیم

Published On 16 September,2020 10:34 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ فیٹف قوانین متعین وقت میں منظور نہ ہوتے تو پاکستان بلیک لسٹ ہو جاتا۔ اقدامات کی جانچ کے بعد فیٹف پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دے گی۔

دنیا نیوز کے پروگرام ‘’دنیا کامران خان کیساتھ’’ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے ضری باتوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ فیٹف کی شرط ہے کہ منی لانڈرنگ کے کیس میں بغیر وارنٹ گرفتاری ہو۔ کئی ممالک میں منی لانڈرنگ کے معاملات میں اسی طرح ہی وارنٹ گرفتاری کی جاتی ہے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فروغ نسیم نے کہا کہ جب ایوان میں حکومت اور اپوزیشن ممبران کی تعداد واضح ہو تو گنتی نہیں کرائی جاتی۔ آج ایوان کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان کی تعداد میں زیادہ فرق نہیں تھا، اس لیے گنتی کرائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ مشترکہ اجلاس میں گنتی نہ کرائی جاتی تو پورا عمل مشکوک ہو جاتا۔ پہلے ہی کہا تھا کہ اپوزیشن میں کچھ غیرت مند پاکستانی ہیں جو ملک کا مفاد مقدم رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کیا فیٹف کے قوانین متعین وقت میں پاس نہ ہوتے تو پاکستان بلیک لسٹ ہو جاتا۔ بلیک لسٹ میں جانے سے پاکستان کو ایک ‘’بنانا سٹیٹ’’ قرار دے دیا جاتا۔ اپوزیشن جماعتوں کی سیاست اتنی گرے گی کہ پاکستان کا مفاد بھی نہیں دیکھی گی؟ آج کے اپوزیشن کے رویے پر بہت دکھ ہوا۔

ایک اہم سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر قانون نے بتایا کہ فیٹف کی 30 ستمبر سے جڑی تمام شرائط ہم نے پوری کر دی ہیں۔ ہمارے اقدامات کی جانچ کے بعد پاکستان کو فیٹف گرے لسٹ سے نکال دے گی۔

اپوزیشن کے رویے پر بات کرتے ہوئے فروغ نسیم نے کہا کہ فیٹف قوانین کے حوالے سے اپوزیشن کے چند رہنما عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ کوئی بھی قانون پاکستان کے آئین کے برخلاف نہیں ہو سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے دوست میری بات کو درست مانتے ہیں۔ اگر یہ کالا قانون ہے تو اپوزیشن اس کی شق بتائے، میں خود اسے ہذف کراؤں گا۔ اپوزیشن کو چاہیے کہ منی لانڈرنگ بل کے حوالے سے عوام کو سچ بتائے۔

بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم اپوزیشن کے کہنے پر کی گئی۔ پاکستان اس وقت ففتھ جنریشن وار میں پھنسا ہوا ہے۔ ففتھ جنریشن وار میں ہمارے دشمن بڑی آسانی سے فوج کے خلالف بات کروا دیتے ہیں۔ فوج کی بدنامی کے تدارک کے لیے کوئی قانون موجود نہیں، فوج کی بدنامی کے ازالے سے متعلق پرائیوٹ ممبر بل کے ذریعے قانون میں ترمیم لا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا تھا کہ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کبھی پاکستان کا برا نہیں چاہیں گے لیکن آج جس طرح اپوزیشن نے فیٹف کی مخالفت میں گمراہ کن بیان دیے، یہ درست نہیں ہے۔