تازہ ترین
  • بریکنگ :- مفتاح اسماعیل نےبتایاآئی ایم ایف سے 2 ارب ڈالرمل جائیں گے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- خودانحصاری ہی قوم کی سیاسی،معاشی آزادی کی ضمانت ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- فیصلوں پرمشاورت جمہوری عمل ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- بنگلادیش میں 6 ارب ڈالرکی لاگت سےبڑاانفرااسٹرکچربنایاگیا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- پاکستان میں وسائل اورہنرمندلوگوں کی کمی نہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ریکوڈک میں اربوں روپےکاخزانہ دفن ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ابھی تک ہم نےایک دھیلہ نہیں کمایامگراربوں روپےضائع ہوگئے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- مقدمات کی مدمیں ہم نےاربوں روپےضائع کیے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- پوری دنیااس وقت معاشی بحران کاشکارہے،شہبازشریف
  • بریکنگ :- گزشتہ حکومت نےگیس کےسستےاورلانگ ٹرم معاہدےنہیں کیے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- گزشتہ حکومت نےترقیاتی منصوبوں کوالتواکاشکاررکھا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ہم گزشتہ حکومتوں پرملبہ ڈال دیتےہیں اورکام نہیں کرتے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ذاتی پسندناپسندسےبالاترہوکرملکی ترقی کیلئےکام کرناہوگا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- جولائی میں افغانستان سےکوئلہ آناشروع ہوجائےگا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ہمیں آنیوالی نسلوں کیلئےبہترپاکستان بناناہوگا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- زراعت کےشعبےکی ترقی کیلئےکسانوں کوہرممکن ریلیف دیں گے،وزیراعظم

ڈیلی میل کیس: برطانوی صحافی، مریم نواز، شہزاد اکبر کا رد عمل آ گیا

Published On 05 February,2021 11:16 pm

لندن: (دنیا نیوز) ڈیلی میل کے صحافی ڈیوڈ روز نے لندن کورٹ میں شہباز شریف سے متعلق فیصلے کے بعد رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کوئی حتمی نتیجہ نہیں ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ہتک عزت کیس میں آج کی سماعت ابتدائی ہے۔ فیصلہ حتمی مقدمے کی سماعت کے پیرامیٹرز طے کرتا ہے، یہ کوئی حتمی نتیجہ نہیں ہے۔

دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیسا احتساب تھا اور کیوں شروع کیا گیا، یہ تو بہت پہلے ہی دنیا پر عیاں ہوچکا تھا مگر احتساب کا ڈرامہ رچانے والوں کا محاسبہ تو ابھی شروع ہوا ہے۔ اللّہ تعالیٰ ناانصافی کو پسند نہیں فرماتا۔احتساب احتساب کی رٹ لگانے والوں کا اپنا یوم احتساب قریب ہے۔ انشاءاللّہ

ٹویٹر پر انہوں نے لکھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور لیگی صدر شہباز شریف نے ایمانداری اور دیانت داری سے ملک و قوم کی خدمت کی ہے اسی لئے ان پر بہتان لگانے اور دھونس دھاندلی اور سازش سے ان کو سیاسی میدان سے باہر رکھنے والوں کو ہر روز دھول چاٹنا پڑ رہی ہے۔ شرم ہے تو چلو بھر پانی میں ڈوب مرو۔

لیگی نائب صدر کا کہنا تھا کہ مجھے لگتا ہے برطانوی جج صاحبان نہ گاڈ فادر فلم دیکھتے ہیں نہ ہی ناول پڑھتے اور نہ ہی واٹس ایپ کا استعمال کرتے ہیں۔ کیسے جج ہیں یہ؟ لندن کورٹ کا فیصلہ ثبوت ہے کہ جب عدالت ثاقب نثار کی نہیں بلکہ آزاد عدالت ہوگی تو عمران خان اور حواریوں کو منہ کی کھانا پڑے گی۔

اُدھر مشیر داخلہ شہزاد اکبر نے لکھا کہ شہباز شریف کے کیس کی جیت سے متعلق غلط انداز میں رپورٹ کیا جا رہا ہے۔ شہباز شریف اور علی عمران یہ کیس نہیں جیتے۔

شہزاد اکبر نے لکھا کہ احتساب عدالت سے شہبازشریف کی ضمانت مسترد ہوچکی۔ جج نے کہا کوئی پارٹی کیس جیتی ہے نہ ہاری ہے، شہبازشریف پر منی لانڈرنگ کیس میں احتساب عدالت میں فردجرم عائدہوچکی ہے۔ لندن کی عدالت کے فیصلے پر آج کی سماعت آرٹیکل کو سمجھنے سے متعلق تھی۔

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ جیسے لاہور میں میرے خلاف آپکے زمانے میں ٹھیکہ لینے والی کمپنی نے ایک کیس کیا۔ معزز عدالت نے ان کا کیس شروع کیا۔ مجھے نوٹس کیا۔ کیس غلط یا ٹھیک فیصلہ ابھی ہونا ہے۔ بعد میں کیس کرنے والے محترم اسی کیس میں جعلسازی کے الزام میں حوالات پہنچے۔ تو لڈیاں مت ڈالیں۔ یہ معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔

ٹویٹر پر انہوں نے لکھا کہ ن کے معصوم بھائیوآج عدالت نے صرف یہ کہا ہے کہ ڈیوڈ روز کی خبر شہباز شریف کے بارے ہی تھی اور اگر خبر جھوٹی ہوئی تو ان کی ہتک عزت تصور ہو گی۔ اب عدالت میں یہ ثابت کرنا ہو گا کہ شہباز شریف اور ٹبر نے چوری کی ہے یا نہیں۔ اگر چوری ثابت ہو گئی تے فیر لندن میں انگلش میں بے عزتی ہوگی۔ ہاں جی