تازہ ترین
  • بریکنگ :- ایف اےٹی ایف کاپیرس میں اجلاس
  • بریکنگ :- پاکستان بلیک لسٹ نہیں ہوگا،صدرایف اےٹی ایف
  • بریکنگ :- پاکستان گرےلسٹ میں رہےگا،صدرایف اےٹی ایف
  • بریکنگ :- پاکستان نےنئےایکشن پلان پربہترعملدرآمدکیا،صدرایف اےٹی ایف
  • بریکنگ :- پاکستان نے 27میں سے 26 اہداف پورےکیے،مارکس پلیئر
  • بریکنگ :- پاکستان نےایشیاپیسفک گروپ کے 34میں سے 30اہداف پرعمل کیا،مارکس پلیئر
  • بریکنگ :- پاکستان میں مانیٹرنگ کانظام بہترہواہے،صدرایف اےٹی ایف
  • بریکنگ :- پاکستان کواینٹی منی لانڈرنگ قوانین پرعملدرآمدمزیدبہتربناناہوگا،مارکس پلیئر
  • بریکنگ :- منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئےمشترکہ کوششیں کررہےہیں،مارکس پلیئر
  • بریکنگ :- منی لانڈرنگ کی روک تھام میں پنڈوراپیپرزنےبھی معاونت کی،مارکس پلیئر
  • بریکنگ :- آف شورکمپنیوں میں سرمایہ کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے،صدرایف اےٹی ایف
  • بریکنگ :- آف شورکمپنیوں میں منی لانڈرنگ کےسرمائےکاجائزہ لیں گے،مارکس پلیئر
  • بریکنگ :- مالی،اردن اورترکی نےمانیٹرنگ نظام بہترکیاہے،صدرایف اےٹی ایف
  • بریکنگ :- ترکی کومنی لانڈرنگ کیخلاف قوانین پرعملدرآمدبہترکرناہوگا،مارکس پلیئر

این اے 75: حکومت الیکشن کمیشن کا فیصلہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کرے گی

Published On 26 February,2021 06:00 pm

لاہور: (دنیا نیوز) حکومت نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 ضمنی الیکشن کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے قانونی لائحہ عمل کی منظوری دے دی ہے۔ انتظامی افسروں کیخلاف کارروائی کیخلاف بھی پٹیشن دائر ہوگی۔

ذرائع کے مطابق یہ اہم فیصلہ وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت ایک اہم اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں معاون خصوصی پنجاب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، علی ظفر ایڈووکیٹ اور علی اسجد ملہی بھی شریک ہوئے۔

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے وزیراعظم سے ون آن ون بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں ڈسکہ کے ضمنی انتخاب بارے وزیراعظم کو بریف کیا گیا۔ قانونی ٹیم نے وزیراعظم کو آئندہ لائحہ بارے مشورہ دیا۔

قانون ٹیم کی رائے کی روشنی اور وزیراعظم کی منظوری کے بعد حکومت نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چینلج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں لاہور ہائیکورٹ میں دو پٹیشنز دائر کی جائیں گی۔ ایک پٹیشن میں الیکشن کمیشن کے دوبارہ انتخاب کو چیلنج کیا جائے گا جبکہ دوسری پٹیشن میں آفیسرز کے خلاف کارروائی کے فیصلے کو بھی چیلنج کیا جائے گا۔

قانونی ٹیم کی جانب سے وزیراعظم کو دی گئی بریفنگ میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو آفیسرز کے خلاف اس نوعیت کی کارروائی کا اختیار نہیں ہے۔