تازہ ترین
  • بریکنگ :- کراچی: نئی پابندیوں کا اطلاق 24 جنوری سے ہوگا
  • بریکنگ :- 12سال سےکم عمرکےبچوں کو 50فیصدبلایا جائے،حکم نامہ
  • بریکنگ :- کراچی ،حیدرآبادمیں 12سال سےزائدعمرکےبچوں کی 100فیصدحاضری کی ہدایت
  • بریکنگ :- کراچی ،حیدرآباد میں 50 فیصدسےزائد افراد پارک میں داخل نہیں ہوسکیں گے
  • بریکنگ :- سندھ کےدیگراضلاع میں آؤٹ ڈورتقریبات میں 500افرادشرکت کرسکیں گے
  • بریکنگ :- تقریبات میں شرکت کرنے والوں کاویکسی نیٹڈہونا لازمی قرار
  • بریکنگ :- کراچی ،حیدرآباد میں ان ڈورجم میں 50 فیصد افراد کے آنے کی اجازت
  • بریکنگ :- کراچی ، حیدرآباد میں سینما گھر میں 50فیصدویکسی نیٹڈ افرادکےداخلےکی اجازت
  • بریکنگ :- دفاترمیں حاضری 100 فیصد رکھنے کی اجازت،محکمہ داخلہ سندھ
  • بریکنگ :- کوروناایس اوپیز،محکمہ داخلہ سندھ کانیاحکم نامہ جاری
  • بریکنگ :- کراچی اورحیدرآبادمیں ان ڈورتقریبات پر 15 فروری تک پابندی عائد،حکم نامہ
  • بریکنگ :- آؤٹ ڈورتقریبات میں 300 افرادکی شرکت کی اجازت ہوگی،حکم نامہ

زرداری، نواز اور فضل الرحمان کا وزیراعظم سے استعفے اور نئے الیکشن کا مطالبہ

Published On 04 March,2021 11:25 am

اسلام آباد: (دنیا نیوز) سابق صدر آصف علی زرداری نے نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کیا، تینوں رہنماؤں نے وزیراعظم سے فوری استعفے اور نئے الیکشن کا مطالبہ کر دیا۔

ذرائع کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری نے یوسف رضا گیلانی کی کامیابی یقینی بنانے پر نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ یوسف رضا گیلانی ہمارے مشترکہ اور متفقہ امیدوار تھے ان کی کامیابی پی ڈی ایم کی کامیابی ہے، اسی اتحاد سے عمران خان کو جلد اقتدار سے رخصت کرینگے۔

آصف زرداری، نواز شریف اور فضل الرحمان نے پی ڈی ایم کی مستقبل کی حکمت عملی اور لانگ مارچ کی تیاریوں پر بات چیت کی۔ سابق صدر آصف زرداری نے کہا کہ ہم نے حکمت عملی سے حکومتی طاقتور امیدوار کو شکست دی ہے، حکومت کے اپنے اراکین ہم سے رابطے میں ہیں وہ ان سے تنگ ہیں، تمام اتحادیوں سے مشاورت کے بعد پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے چیئرمین سینیٹ کے امیدوار کا فیصلہ کرینگے۔

یاد رہے سینیٹ انتخاب کے بعد اپوزیشن ارکان کی تعداد 53 ہوگئی جبکہ پی ٹی آئی اور اتحادیوں کی نشستیں 47 ہوگئی۔ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں میں پیپلز پارٹی 20 نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہے۔

ن لیگ 18، جے یو آئی 5، اے این پی، نیشنل پارٹی، پشتونخوا میپ کی 2،2 سیٹیں ہیں۔ بی این پی مینگل تین اور ایک آزاد ارکان کی حمایت بھی اپوزیشن کو حاصل ہے۔

حکومتی اتحاد میں پی ٹی آئی 26 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی ہے۔ بلوچستان عوامی پارٹی 12، ایم کیو ایم 3، ق لیگ اور مسلم لیگ فنکشنل کے ایک ایک سینٹرز اور 4 آزاد ارکان شامل ہیں۔