تازہ ترین
  • بریکنگ :- اوپی ڈیزمیں ہیلتھ کیئرکی سہولتیں بہتربنانےکےپروگرام کی منظوری
  • بریکنگ :- اسپتالوں کی اوپی ڈیزکوکم سےکم وقت میں بہتربنایاجائے،حمزہ شہباز
  • بریکنگ :- اوپی ڈیزمیں مریضوں کوہرممکن سہولتیں ملنی چاہئیں،حمزہ شہباز
  • بریکنگ :- 85 تحصیل ہیڈکوارٹرزاسپتالوں کوبہتربنانےکےپروگرام کی بھی منظوری
  • بریکنگ :- اسپتالوں میں صفائی کےانتظامات بہتربنانےکی ضرورت ہے،حمزہ شہباز
  • بریکنگ :- لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہبازکی صدارت میں اجلاس
  • بریکنگ :- عوام کوصحت کی معیاری سہولتوں کی فراہمی کےپروگرام کاجائزہ

بڑے ایوان کی بڑی کرسی پر کون براجمان ہوگا؟ معرکہ آج لگے گا

Published On 11 March,2021 11:39 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کیلئے معرکہ آج لگے گا۔ حکومتی امیدوار صادق سنجرانی اور پی ڈی ایم کے یوسف رضا گیلانی آمنے سامنے ہیں۔ خفیہ بیلٹ کے ذریعے انتخاب کیا جائے گا۔ اڑتالیس نومنتخب سینیٹرز بھی آج حلف اٹھائیں گے۔

سینیٹ کا اجلاس آج ہوگا جس کا 10 نکاتی ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے۔ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب خفیہ رائے شماری سے ہوگا۔

ایوان بالا ‏کا اجلاس صبح دس بجے شروع ہوگا۔ انتخاب سے قبل چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نومنتخب 48 سینیٹرز سے حلف لیں گے جس کے بعد اجلاس ملتوی کر دیا جائے گا۔

امیدوار کاغذات ‏نامزدگی ‏جمع کروائیں گے اور پھر نماز جمعہ کے بعد چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب کیا جائے گا۔

اپوزیشن کی جانب سے چیئرمین کیلئے یوسف رضا گیلانی جبکہ ڈپٹی چیئرمین کے لیے عبدالغفور حیدری کا نام تجویز کیا گیا ہے۔

حکومتی اتحاد نے چیئرمین کے لیے صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین کے لیے مرزا محمد آفریدی کو امیدوار نامزد کیا ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے سینیٹر سید مظفر حسین شاہ کو پریزائیڈنگ افسر مقرر کر دیا ہے۔

امیدواروں میں سادہ اکثریت لینے والا چیئرمین سینیٹ منتخب ہو جائے گا۔ تاہم ووٹ ‏برابر ہونے کی صورت میں الیکشن دوبارہ ہوگا۔

پریذائیڈنگ افسر نومنتخب چیئرمین ‏سینیٹ سے ‏حلف لے کر اجلاس کی صدارت حوالے کر دیں گے۔

چیئرمین سینیٹ، ڈپٹی ‏چیئرمین سینیٹ کا انتخاب کروائیں گے۔ ڈپٹی چیئرمین کی حلف برداری کے بعد حکومت ‏اوراپوزیشن سینیٹ میں قائد ایوان اورقائد حزب اختلاف نامزد کریں گے۔

اب سینیٹ میں 104 کے بجائے سینیٹ اراکین کی تعداد 100 ہوگی۔ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد 4 نشستیں ختم کر دی گئی ہیں۔