تازہ ترین
  • بریکنگ :- مفتاح اسماعیل نےبتایاآئی ایم ایف سے 2 ارب ڈالرمل جائیں گے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ہماری اصل منزل خودانحصاری ہے،شہبازشریف
  • بریکنگ :- فیصلوں پرمشاورت جمہوری عمل ہے،وزیراعظم

چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب، ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع

Published On 12 March,2021 10:11 am

اسلام آباد: (دنیا نیوز) ایوان بالا کے چئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لئے پولنگ کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔ تحریک انصاف اور حکومتی اتحاد کے امیدوار صادق سنجرانی اور پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار ہیں۔

 ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے اپوزیشن نے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سینیئر رہنما مولانا عبدالغفور حیدری جبکہ حکومت نے سابق فاٹا سے سینیٹر منتخب ہونے والے مرزا محمد آفریدی کو میدان میں اُتارا ہے۔

 پولنگ بوتھ میں کیمرہ اور موبائل فون لے جانے پر پابندی تھی۔ پولنگ شام 5 بجے بند کر دی گی۔

جاری کردہ ایجنڈے کے مطابق چیئرمین کے منتخب ہونے کے بعد پریزائیڈنگ افسر نئے چیئرمین سے حلف لیں گے۔ چیئرمین سینیٹ حلف اٹھانے کے بعد ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب کروائیں گے۔ چیئرمین سینیٹ نو منتخب ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سے حلف لیں گے۔ سینیٹ رولز کے مطابق دونوں امیدواروں کے درمیان مقابلے کی صورت میں ایک امیدوار کو ایوان کے اراکین کی مجموعی تعداد کی اکثریت یعنی کم از کم 51 فیصد ووٹ حاصل کرنا ہوں گے۔

قبل ازیں سینیٹ میں پولنگ بوتھ کے اوپر خفیہ کیمرہ نصب ہونے پر اپوزیشن نے احتجاج کیا، ارکان نشستوں پر کھڑے ہو گئے۔ ایوان میں ہنگامہ آرائی ہوئی۔ پریذائیڈنگ آفیسر سینیٹر مظفر حسین شاہ سینیٹرز کو بیٹھنے کی درخواست کرتے رہے لیکن احتجاج جاری رہا۔ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ خفیہ کیمرہ لگانا قانون کی خلاف ورزی ہے۔ جس پر پریذائیڈنگ آفیسر سینیٹر مظفر حسین شاہ کی ہدایت پر نیا بوتھ لگا دیا گیا۔

سینیٹ کے نومنتخب 48 ارکان نے حلف اٹھایا۔ مظفر حسین شاہ نے نومنتخب سینیٹرز سے حلف لیا۔

اسلام آباد

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے پاکستان پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی اور پاکستان تحریک انصاف کی فوزیہ ارشد نے حلف اٹھایا۔

پنجاب

 پنجاب سے حلف اٹھانے والوں میں مسلم لیگ (ق) کے کامل علی آغا، پی ٹی آئی کے سیف اللہ نیازی، عون عباس، اعجاز چودھری، سید علی ظفر، زرقا سہروردی تیمور، مسلم لیگ (ن) کے افنان اللہ خان، ساجد میر، عرفان الحق صدیقی، اعظم نذیر تارڑ اور سعدیہ عباسی شامل تھے۔

سندھ

سندھ سے پاکستان پیپلز پارٹی کے سلیم مانڈوی والا، شیری رحمن، تاج حیدر، شہادت اعوان، جام مہتاب حسین ڈاہر، فاروق حامد نائیک، پلوشہ محمد زئی خان، پی ٹی آئی کے محمد فیصل واوڈا، سیف اللہ ابڑو، ایم کیو ایم پاکستان کے سید فیصل علی سبزواری اور خالدہ اطیب نے حلف اٹھایا۔

خیبرپختونخوا

خیبرپختونخوا سے پی ٹی آئی کے محسن عزیز، سید شبلی فراز، لیاقت خان ترکئی، فیصل سلیم رحمن، ذیشان خانزادہ، دوست محمد خان، محمد ہمایوں مہمند، ثانیہ نشتر، فلک ناز، گردیپ سنگھ، عوامی نیشنل پارٹی کے ہدایت اللہ خان اور جے یو آئی (ف) کے عطا الرحمن حلف اٹھانے والوں میں شامل تھے۔

بلوچستان

بلوچستان سے بلوچستان عوامی پارٹی کے پرنس احمد عمر احمد زئی، منظور احمد، سرفراز احمد بگٹی، سعید احمد ہاشمی، ثمینہ ممتاز، دنیش کمار، بلوچستان نیشنل پارٹی کے محمد قاسم، اے این پی کے عمر فاروق، جے یو آئی (ف) کے مولانا عبدالغفور حیدری، کامران مرتضیٰ، آزاد امیدوار محمد عبدالقادر اور نسیمہ احسان حلف اٹھانے والوں میں شامل تھیں۔ یہ اراکین 6 سال کے لئے سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔

سبکدوش سینیٹرز

سبکدوش ہونے والے اراکین میں راجہ ظفر الحق، سراج الحق، رحمن ملک، آغا شاہ زیب درانی، عائشہ رضا فاروق، اورنگزیب خان، جان کینتھ ولیم، چودھری تنویر، ڈاکٹر اسد اشرف، اشوک کمار، ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی، غوث محمد خان نیازی، گیان چند، گل بشرا، حاجی محمد خان آفریدی، اسلام الدین شیخ، خوش بخت شجاعت شامل ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) صلاح الدین ترمذی، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم، میاں محمد عتیق شیخ، میر کبیر، یوسف بادینی، محمد علی خان سیف، محمد جاوید عباسی، خالد بزنجو، محمد عثمان خان کاکڑ، نجمہ حمید، نعمان وزیر، نصرت شاہین، پرویز رشید، راحیلہ مگسی، سجاد حسین طوری، ثمینہ سعید، سردار یعقوب خان ناصر، سسی پلیجو، تاج آفریدی اور سلیم ضیا بھی سبکدوش ہوگئے۔

یاد رہے ریٹائر ہونے والے 34 سینیٹرز کا تعلق اپوزیشن جماعتوں جبکہ 18 کا حکومتی بینچوں سے ہے۔ تاہم کئی دوبارہ منتخب بھی ہوگئے ہیں۔ نئے منتخب سینیٹرز میں تحریک انصاف کے 19، پیپلز پارٹی کے 8، بلوچستان عوامی پارٹی کے 6، مسلم لیگ (ن) کے 5، جمعیت علما اسلام ف کے 3 جبکہ ایم کیو ایم، بی این پی مینگل اور اے این پی کے 2، 2 اور مسلم لیگ ق کا ایک رکن شامل ہے۔