تازہ ترین
  • بریکنگ :- بلوچستان کےضلع شیرانی کےجنگلات میں لگی آگ بجھانےکی کوششیں جاری
  • بریکنگ :- پی ڈی ایم اےاوراین ڈی ایم اےآگ بجھانےمیں مصروف،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- جنگلات میں 18مئی کوآگ لگی تھی،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- فوج اورایف سی بلوچستان ہرممکن تعاون فراہم کررہی ہے،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- کوئٹہ کورہیڈکوارٹرزپی ڈی ایم اےکیساتھ مکمل رابطےمیں ہے،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- جنگلات میں آگ 10ہزارفٹ کی بلندچوٹیوں سےشروع ہوئی،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- شدیدگرم موسم اورہواؤں سےآگ دورتک پھیل گئی،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- قریب ترین دیہات آگ سے 10 کلومیٹردورہیں،آئی ایس پی آر

پاکستان کسی بھی ملک کو اپنا کوئی فضائی اڈہ نہیں دے سکتا، فواد چودھری

Published On 08 June,2021 08:41 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیر اطلاعات ونشریات فواد چودھری نے پاکستان میں امریکا کے کسی بھی فوجی ائیربیس کی موجودگی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی تمام سہولیات پاکستان کے اپنے زیر استعمال ہیں۔ پاکستان کسی بھی ملک کو اپنا کوئی فضائی اڈہ نہیں دے سکتا۔

سرکاری میڈیا کے مطابق انہوں نے وزیراعظم کے زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کو بریفنگ دیتے ہوئے یہ بات بتائی۔

فواد چودھری نے کہا کہ کینیڈا میں ہونے والا واقعہ وزیراعظم عمران خان کے تحفظات کا ثبوت ہے کہ مغرب میں اسلام کی مخالفت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کابینہ نے مغربی ممالک پر زور دیا کہ وہ اسلام کی مخالفت کے بنیادی سبب کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے فوری اقدامات کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ نے گھوٹکی ٹرین حادثے میں شہید ہونے والوں اور کینیڈا میں قتل کیئے جانے والے پاکستانی خاندان کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی ۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ اجلاس میں کئے گئے فیصلے کے تحت مبشر حسین کو ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کا منیجنگ ڈائریکٹر جبکہ طارق ملک کو دوبارہ چیئرمین نادرا تعینات کر دیا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے کہا ہم حزب اختلاف سے مذاکرات کرنے کو تیار ہیں تاہم بدعنوان عناصر کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

فواد چودھری نے سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کیلئے عدالت میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے پٹیشن دائر کرنے پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ انھیں ووٹ کا بنیادی حق دینا ہماری اولین ترجیح ہے۔ ہمیں اس سلسلے میں پیپلز پارٹی کے جواب کا انتظار ہے تاکہ قانون سازی عمل مکمل کیا جا سکے۔