تازہ ترین
  • National :- سینیٹ اجلاس،انسدادگھریلوتشدداورتحفظ بل پرقائمہ کمیٹی انسانی حقوق کی رپورٹ پیش
  • National :- بزرگ شہریوں کی فلاح کےبل پرقائمہ کمیٹی انسانی حقوق کی رپورٹ بھی پیش
  • National :- دونوں رپورٹس سینیٹر ولید اقبال نے ایوان بالا میں پیش کیں
  • National :- اسلام آباد: قومی اسمبلی اجلاس،بلاول بھٹوزرداری کا اظہارخیال

قومی اسمبلی:بھارتی جاسوس کلبھوشن بارے بل شامل ہونے پر ایوان میں ہنگامہ آرائی

Published On 10 June,2021 10:42 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں بھارتی جاسوس کلبھوشن کے حوالے سے بل شامل ہونے پر ایوان میں مسلسل ہنگامہ آرائی، اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا۔

تفصیل کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں منعقد ہوا۔ کلبھوشن آرڈیننس کے معاملہ پر ایوان میں اپوزیشن کی جانب سے شدید نعرہ بازی کی گئی۔ ایوان میں کلبھوشن کو پھانسی دو کے نعرے لگائے گئے۔

اپوزیشن رکن اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ایجنڈا دیکھ کر اندازہ ہوا کہ حکومت کی طرف سے کچھ دال میں کالا ہے۔ ایجنڈے کے ستاون نمبر پر بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے لئے قانون منظوری کرایا جا رہا ہے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پہلے سے قانون موجود ہے کہ ہائی کورٹس میں فوجی عدالتوں کی سزاؤں کے خلاف اپیل ہو سکتی ہے، ہم محب وطن لوگوں سے ووٹ لے کر آئے ہیں، ہم یہ اجازت نہیں دیں گے کہ اس مقدس ایوان میں جاسوس کے لیے خصوصی قانون سازی کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کس طریقے سے یہ قانون سازی کر رہی ہے، آج ایک بھارتی جاسوس کے لئے قانون بنایا جا رہا ہے۔ ہم اس سوچ کو کسی صورت سپورٹ نہیں کریں گے۔

وزیر قانون فروغ نسیم نے احسن اقبال کی تقریر کے جواب میں ایوان کو بتایا کہ لیگی رہنما جو بات کر رہے ہیں وہ بھارت چاہتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں آپ نے عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ نہیں پڑھا اور اگر پڑھ رکھا ہے تو مجھے بہت حیرت ہے کہ آپ کی بات کر رہے ہیں۔

فروغ نسیم نے کہا کہ اگر ہم یہ قانون نہیں لے کر آئیںگے تو عالمی عدالت انصاف میں ہمارے خلاف توہین عدالت کی کروائی ہو سکتی ہے۔ میں آپ کے سامنے یہ سارا فیصلہ پڑھ دیتا ہوں۔ فیصلے کا پیرا 146 میں درج ہے کہ اس فیصلے کو ریویو کرنا پڑے گا، یہی وہ قانون ہے جو ریویو کو یقینی بنائے گا۔

تاہم اس وضاحت کے باوجود اپوزیشن نے سپیکر ڈائس کا گھیراؤ کر لیا اور شدید نعرہ بازی شروع کر دی۔ اپوزیشن کے درجنوں ارکان سپیکر ڈائس کے سامنے بطور احتجاج موجود رہے۔

سپیکرنے اپوزیشن کو فلور دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جب متعلقہ بل کی باری آئے گی تب ہی بولنے دوں گا، ابھی صرف ایجنڈے پر کارروائی ہوگی۔