تازہ ترین
  • بریکنگ :- لاہور:قیمتوں میں مزیداضافہ مسئلےکاحل نہیں ہے،شہبازشریف
  • بریکنگ :- مسئلہ حکمرانوں کی نااہلی اورکرپشن ہے،اپوزیشن لیڈرشہبازشریف
  • بریکنگ :- حکومت ملکی معیشت کانائن الیون کرچکی ہے،شہبازشریف
  • بریکنگ :- حکومت کومعیشت کی" الف ب" بھی معلوم نہیں،شہبازشریف
  • بریکنگ :- قوم کومہنگائی سےمارنےکےبجائےعمران خان گھرچلےجائیں،شہبازشریف
  • بریکنگ :- شہبازشریف کی گیس کی قیمتوں میں 35فیصداضافےکی تجویزکی مذمت
  • بریکنگ :- لاہور:حکومت آئی ایم ایف کی شرائط پوری کررہی ہے،شہبازشریف
  • بریکنگ :- حکومت نےقوم سےٹیکس فری بجٹ کاجھوٹ بولاتھا،شہبازشریف
  • بریکنگ :- ہم نےجوکچھ کہاآج سچ ثابت ہورہاہے،اپوزیشن لیڈرشہبازشریف
  • بریکنگ :- کہاتھابجٹ کےبعدمہنگائی اورٹیکسوں کانیاسیلاب آئےگا،شہبازشریف
  • بریکنگ :- گیس کی قیمتوں میں اضافہ حکومت کی ایک اورسنگین حماقت ہے،شہبازشریف
  • بریکنگ :- عوام مزیدمہنگائی برداشت نہیں کرسکتے،ظلم درظلم بندکیاجائے،شہبازشریف
  • بریکنگ :- عمران خان اپنی حماقتوں سےملک میں خانہ جنگی کرانےپرتلےہیں،شہبازشریف
  • بریکنگ :- پہلےہی گیس اوربجلی کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ ہوچکاہے،شہبازشریف

وزیراعلیٰ بلوچستان کیخلاف اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی

Published On 14 September,2021 11:11 pm

کوئٹہ: (دنیا نیوز) وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد متحدہ اپوزیشن کی جانب سے جمع کرا دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد سیکریٹری بلوچستان اسمبلی کے پاس جمع کرا دی گئی جس پر اپوزیشن کے 16 ارکان کے دستخط موجود ہیں۔

تحریک عدم اعتماد میں جن 16 اپوزیشن ارکان کے دستخط ہیں ان میں اپوزیشن لیڈر ملک سکندر، ثناء بلوچ، نصر اللہ زیرے، اصغر ترین، زابد ریکی، یونس عزیز زہری، اختر لانگو، ملک نصیر شاہوانی اور دیگر شامل ہیں۔

اپوزیشن اراکین نے تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 4 نکات پر عدم اعتماد جمع کرائی گئی ہے، 3 سال کے دوران جام کمال حکومت کی جو کارکردگی رہی اس پر انہیں مزید حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں، آج جو حالات ہیں صوبے کا ہر شخص اس حکومت کا خاتمہ چاہتا ہے۔ صوبے میں بدامنی ،کرپشن اور لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے۔

اپوزیشن اراکین کا تحریک کے حوالے سے کہنا تھا کہ تحریک کی کامیابی کے لیے انکے پاس مطلوبہ تعداد پوری ہے، فی الحال مطلوبہ تعداد سامنے نہیں لائیں گے۔ اسمبلی اجلاس کے روز سارے نمبر پورے ہو جائیں گے۔