تازہ ترین
  • بریکنگ :- کوئٹہ اورلسبیلہ کےعلاوہ بلوچستان کے 32اضلاع میں بلدیاتی الیکشن آج ہوں گے
  • بریکنگ :- بلدیاتی انتخابات کےلیےبیلٹ پیپرزاورانتخابی میٹریل کی ترسیل کاعمل مکمل
  • بریکنگ :- پولنگ صبح 8بجےسےشام 5بجےتک بغیرکسی وقفےکےجاری رہےگی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:7 میونسپل کارپوریشن،838یونین کونسلزمیں پولنگ ہوگی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:5ہزار345دیہی وارڈاور9ہزار14شہری وارڈکےلیےپولنگ ہوگی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:35لاکھ52ہزار298ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے
  • بریکنگ :- کوئٹہ:20لاکھ 6ہزار274مرداور15لاکھ46ہزار124خواتین ووٹرزہیں
  • بریکنگ :- کوئٹہ:32اضلاع میں 5ہزار226پولنگ اسٹیشنزقائم
  • بریکنگ :- کوئٹہ:2ہزار54پولنگ اسٹیشنزانتہائی حساس،ایک ہزار974حساس قرار
  • بریکنگ :- الیکشن میں16 ہزار195امیدوارمدمقابل،102 امیدواربلامقابلہ منتخب
  • بریکنگ :- کوئٹہ:پولنگ اسٹیشنزپرپولیس،لیویزاورایف سی کےجوان تعینات ہوں گے

الیکشن کمیشن نے فواد چودھری، اعظم سواتی کو نوٹس جاری کر دیئے

Published On 16 September,2021 06:32 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) الیکشن کمیشن نے الزامات کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری اور وفاقی وزی ریلوے اعظم سواتی کو نوٹس جاری کر دیئے۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن نے نوٹس جاری کیے جانے کے بعد دونوں وفاقی وزراء سے الزامات پر ثبوت مانگ لیا ہے۔ فواد چودھری اور اعظم سواتی کے پریس کانفرنس میں لگائے گئے الزامات نوٹس کا حصہ ہیں۔ دونوں وزراء سے 14 روز میں تحریری جواب مانگا گیا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی کارروائی کا بھی نوٹس میں حوالہ دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ 14 ستمبر کو الیکشن کمیشن نے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری اور وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی کو نوٹس بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد فواد چودھری نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کا نوٹس آیا تو تفصیلی جواب دیں گے۔

ٹویٹر پر د عمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا احترام اپنی جگہ لیکن شخصیات کے سیاسی کردار پر بات کرنا پسند نہیں تو اپنا کنڈکٹ غیر سیاسی رکھیں۔ ادارے کی طرف سے نوٹس آیا تو تفصیلی جواب دیں گے، بحیثئت ادارہ الیکشن کمیشن کی حیثئت مسلمہ ہے لیکن شخصیات غلطیوں سے مبرا نہیں اور تنقید شخصیات کے کنڈکٹ پر ہوتی ہے ادارے پر نہیں۔

واضح رہے کہ 10 ستمبر کو مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان، وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کا کہنا تھا کہ شاہدخاقان عباسی اینڈ کمپنی سارے معاملے کو متنازع بنا رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے الیکشن کمیشن اس وقت اپوزیشن کا ہیڈ کوارٹربن گیا ہے۔ الیکشن کوشفاف بنانے کے لیے ہم ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا چاہتے ہیں، الیکشن کمیشن کی منطق عجیب وغریب ہے۔

فواد چودھری کا کہنا تھا کہ آج الیکشن کمیشن کا رویہ،پارلیمان کے استحقاق کوٹھکرانے کے مترادف ہے، بدقسمتی سے اپوزیشن کے بونوں کی سوچ اپنے کیسزمیں تاریخ لینے تک محدود ہے، اگرپارلیمنٹ مضبوط ہوگی توملکی سیاست بہترہوگی۔ 2018کے الیکشن میں عوام نے عمران خان پراعتماد کا اظہارکیا، تحریک انصاف کے منشورمیں الیکشن کوشفاف بنانے کا وعدہ تھا، عمران خان کی واحد حکومت ہے جس نے شفاف الیکشن کے لیے تجاویز پیش کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قانون الیکشن کمیشن نہیں، قانون بنانے کا اختیارپارلیمان کے پاس ہے، چیف الیکشن کمشنر اپوزیشن کے ماؤتھ پیس کے طور پر کام کرنا چاہتے ہیں، چیف الیکشن کمشنر نواز شریف سے قریبی رابطے میں رہے ہیں، ان کی نوازشریف سے ذاتی ہمدردی بھی ہوسکتی ہے۔ اگرہمیں چیف الیکشن کمشنرپراعتماد نہیں تووہ الیکشن کیسے کرائیں گے، چیف الیکشن کمشنرچھوٹی، چھوٹی جماعتوں کے آلہ کارنہ بنیں، ای وی ایم پراحمقانہ ابجکشن اورسیاست کی، اگراس طرح سیاست کریں گے توپھررسپانس آئے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا کے الیکشن کے طریقہ کارکا جائزہ لیا گیا، ہم نے اپوزیشن کو الیکشن اصلاحات پر دعوت دی، جہاں اپوزیشن ہار جاتی ہے وہاں دھاندلی کا الزام لگاتی ہے۔ عدالت نے کہا الیکشن کمیشن پر لوگوں کواعتماد نہیں ہے، پوری دنیا کے الیکشن کے طریقہ کارکا جائزہ لیا گیا، ہم نے اپوزیشن کوالیکشن اصلاحات پردعوت دی، جہاں اپوزیشن ہارجاتی ہے وہاں دھاندلی کا الزام لگاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2013کے انتخاب کے بعد عمران نے پہلی تقریرمیں کہا چارحلقوں کوکھولیں، عمران خان کی تقریرپرکوئی دھیان نہیں دیا گیا تھا، عمران خان نے بہت بڑی تحریک کا آغازکیا تھا، جسٹس ناصرالملک صاحب نے تمام جماعتوں کوسن کرریمارکس دیئے پاکستان میں منصفانہ انتخابات کا طریقہ کارسوفیصد موجود نہیں۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے کہا کہ انتخابی اصلاحات پر قومی اسمبلی میں 8 ماہ میں بل منظور کیا گیا مگر اپوزیشن کی جانب سے انتخابی اصلاحات پر ایک بھی تجویز سامنے نہیں آئی۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ریفارم کی دشمن ہے، 90 دن میں قومی اسمبلی سے پاس بل سینیٹ سے منظور ہونا ہوتا ہے، بدھ کو ہم قومی اسمبلی کا اجلاس بلائیں گے، ہم نے انتخابی اصلاحات کےبل کو مشترکہ اجلاس میں لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔