رحمان ڈکیت مقابلہ کیس :15سال بعد عزیربلوچ ساتھی سمیت بری

رحمان ڈکیت مقابلہ کیس :15سال بعد عزیربلوچ ساتھی سمیت بری

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں رحمان ڈکیت پولیس مقابلہ کیس میں عزیر بلوچ اور دیگر کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے پولیس مقابلے کے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے عدم شواہد کی بنا پر عزیر بلوچ اور غفار عرف ماما کو بری کردیا۔

دوران سماعت وکیل نے کہا کہ عزیر بلوچ کے خلاف پولیس کے پاس کوئی شواہد نہیں، پراسیکیوشن کے گواہان کے بیان میں تضاد ہے۔

پراسیکیویشن نے کہا کہ ملزمان کے خلاف 2009 میں سٹیل ٹاؤن تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، عزیر بلوچ کے خلاف 50 سے زائد مقدمات مختلف تھانوں میں درج ہیں، عزیر بلوچ اب تک 39 مقدمات میں بری ہو چکے ہیں۔

پراسیکیویشن کا اپنے دلائل میں کہنا تھا کہ پولیس اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا، پولیس مقابلے میں رحمان ڈکیت سمیت دیگر ملزمان ہلاک ہو گئے تھے، عزیر بلوچ و دیگر ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

پراسیکیویشن نے مزید کہا کہ ملزم عزیر بلوچ کی اس کیس میں جنوری 2021 میں گرفتاری ڈالی گئی تھی، پولیس مقابلے میں عبدالرحمان عرف رحمان ڈکیت، نذیر احمد، اورنگزیب اور عقیل ہلاک ہوگئے تھے۔