بڑی بے شرمی کیساتھ جاگیردارانہ نظام کو جمہوریت کہا جاتا ہے: خالد مقبول صدیقی

بڑی بے شرمی کیساتھ جاگیردارانہ نظام کو جمہوریت کہا جاتا ہے: خالد مقبول صدیقی

کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ جاگیردارانہ نظام پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ ہے، اس نظام کو گرانے اور توڑنے کی ضرورت ہے، ان حالات میں ملک نہیں چل پائے گا، اسے ٹھیک کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں شہریوں کے ٹیکس سے فلاح کے کام کئے جاتے ہیں آج اس کراچی کے لوگوں کے پاس صحت، تعلیم، صفائی ستھرائی جیسی بنیادی سہولیات نہیں، کراچی پورے ملک کو خیرات دے رہا ہے، ٹیکس دینے والوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ ٹیکس کا پیسہ کہاں لگ رہا ہے، جب عوام ٹیکس دے رہے ہیں تو چیزیں ڈونیشن سے کیوں چل رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کا مستقبل نوجوان کے ہاتھ میں ہے، تعلیم سب سے زیادہ مضبوط ہتھیار ہے، تعلیم جبر کے نظام کیخلاف کھڑے ہونے کی ہمت دیتی ہے، 10 سے 12 یونیورسٹیز کراچی شہر میں آئیں گی، ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، موقع ملا ہے کراچی کو روکنا اب ناممکن ہے۔

خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت دنیا کا آخری بدنصیب ملک ہے جہاں جاگیردارانہ نظام موجود ہے، کسانوں کی نمائندگی جب تک جاگیردار کرے گا انقلاب نہیں آ سکتا۔