لاہور: (محمداشفاق) چیف جسٹس عالیہ نیلم کے حکم پر لاہور ہائیکورٹ کی150سالہ تاریخی عمارت کی مرمت اور تزئین آرائش کا کام شروع کردیا گیا۔
لاہور ہائیکورٹ کی تاریخی عمارت عرصہ دراز سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی، لاہوہائیکورٹ بار کے سیکرٹری فرخ الیاس چیمہ نے تاریخی عمارت کی بحالی پر چیف جسٹس مس عالیہ نیلم کو خراج تحسین پیش کیا۔
لاہورہائیکورٹ کی 150سال تاریخی عمارت کی دیکھ بھال نہ ہونے اور بروقت مرمت کا کام نہ ہونے سے اپنی خوبصورت کھوبیٹھی تھی، چیف جسٹس عالیہ نیلم نے عدالت عالیہ کی تاریخی عمارت کی حالت زار کا سخت نوٹس لیا جس کے بعد چیف جسٹس مس عالیہ نیلم کے حکم پر تاریخی عمارت کی بحالی کا کام شروع کردیا گیا۔
ٹوٹ پھوٹ کا شکار لاہورہائیکورٹ کی عمارت کے مختلف حصوں کی بحالی کے لیے کام تیزی سے شروع کیا گیا ہے جب کہ بعض عدالتوں کی چھتوں سے پانی ٹپکنے کی شکایات تھیں، انہیں بھی ٹھیک جارہا ہے، اس کے علاوہ عدات عالیہ کی سڑکوں کی تعمیر بھی عرصہ دراز سے نہ ہونے کے باعث جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی جس کی بحالی کے لیے کام شروع کردیا گیا۔
واضح رہے کہ لاہورہائیکورٹ کی عمارت کو اصل حالت میں بحال کرنے کے لیے قابل آرکیٹیکٹچر کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔
لاہورہائیکورٹ کو اصل حالت میں بحال کرنے اور خوبصورتی میں اضافہ کرنے پر سیکرٹری لاہورہائیکورٹ بار فرخ الیاس چیمہ نے چیف جسٹس عالیہ نیلم کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ یہ وکلا کا درینہ مطالبہ تھا جسے چیف جسٹس نے پورا کیا۔
قانونی ماہر نصیر کمبوہ کا کہنا تھا کہ لاہورہائیکورٹ کی عمارت عرصہ دراز سے حالت زار کا شکار تھی اور کسی نے بھی اس طرف توجہ نہیں دی لیکن چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اس معاملہ کا سخت نوٹس لے کر عمارت کو اصل حالت میں بحال کرنے کا حکم دیا جو قابل ستائش ہے۔



