لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے پتنگ بازی کی اجازت کے نوٹیفکیشن پر پولیس حکام کو حفاظتی پلان پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔
لاہور ہائیکورٹ میں کائٹ فلائنگ آرڈیننس اور ڈی سی کی بسنت اجازت کے نوٹیفکیشن کے خلاف متفرق درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس ملک اویس خالد نے جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی درخواست پر سماعت کی۔
دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے مؤقف اختیار کیا کہ پتنگ بازی کے دوران شہریوں کی جان و مال کا تحفظ آئین کے تحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے لہٰذا عدالت سے استدعا کی کہ کائٹ فلائنگ آرڈیننس اور پتنگ بازی کی اجازت سے متعلق نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے۔
عدالت نے ایڈیشنل سیکرٹری جوڈیشل سے استفسار کیا کہ شہریوں کی حفاظت کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں اور سیفٹی کو کیسے یقینی بنایا جائے گا، درخواست میں کچھ تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں جن میں ایک بچے کا گلا کٹا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔
عدالت نے دوران سماعت ہدایت کی کہ آئی جی اور سی سی پی او رپورٹ لیکر یہ بتائیں کہ حفاظتی اقدامات کو کیسے ریگولیٹ کیا جائے گا۔
دوران سماعت اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل انوار حسین نے اعتراض کیا کہ آرڈیننس اب ایکٹ بن چکا ہے اس لیے درخواست قابل سماعت نہیں جس پر عدالت نے کہا کہ ایکٹ کے قانونی پہلو بعد میں دیکھے جائیں گے جبکہ درخواست شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے دائر کی گئی ہے۔
بعدازاں عدالت نے ایڈیشنل سیکرٹری جوڈیشل کو ہدایت دی کہ وہ آئی جی پنجاب اور سی سی پی او سے حفاظتی پلان لیکر پیش کریں اور سماعت کو مزید کارروائی کے لیے 16 جنوری تک ملتوی کر دیا۔



