خلاصہ
- کوئٹہ: (دنیا نیوز) بلوچستان کابینہ نے تاریخ ساز فیصلہ کرتے ہوئے مسنگ پرسنز کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کر دیا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 22 واں اجلاس ہوا، جس میں بلوچستان سینٹر آف ایکسیلینس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریزم رولز 2025 کی منظوری دے دی گئی ہے۔
سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ مختلف لوگ مسنگ پرسنز پر سیاست کرتے ہیں، ہم نے مستقل بنیادوں پر یہ پروپیگنڈا دفن کر دیا ہے، مشتبہ افراد سے تفتیشی مراکز میں مجاز پولیس افسر کی نگرانی میں تفتیش ہوگی جبکہ مشتبہ افراد کے فیملی ممبرز کو ملاقات کی اجازت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری سطح پر مقدمات کی پیروی مضبوط بنیادوں پر ہوگی، دہشت گردی کے مقامات میں مدعیان اور گواہان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا، اہم قوانین اور رولز کی منظوری بلوچستان کابینہ کی بہت بڑی کامیابی ہے جبکہ گڈ گورننس موثر قوانین کے نفاذ سے ہی ممکن ہے۔
ذراٰئع کے مطابق اجلاس میں صوبائی کابینہ نے بلوچستان پریوینشن ڈیٹینشن اینڈ ریڈیکلائیزیشن رولز 2025 کی منظوری بھی دے دی گی ہے۔
وزیراعلیٰ سرفرا بگٹی نے بلوچستان کابینہ کا محکمہ خزانہ میں آن لائن ٹیسٹ کے ذریعے میرٹ پر بھرتیوں پر اطمینان کا اظہار کیا جبکہ میرٹ کے فروغ کیلئے تمام محکموں میں بھرتیوں کا عمل مرحلہ وار ڈیجیٹائزڈ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
اجلاس میں صوبائی کابینہ نے محکمہ مذہبی امور کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا، ملازمین کو دیگر محکموں میں ایڈجسٹ کیا جائے گا جبکہ صوبائی کابینہ نے نئے ڈویژن اور اضلاع کی تشکیل پر بھی غور کیا۔
صوبائی کابینہ نے بلوچستان میں دو نئے ڈویژن پشین اور کوہ سلیمان کے قیام کی منظوری دے دی جبکہ زیارت انتظامی طور پر لورالائی کا حصہ ہوگا، بلوچستان کابینہ نے ضلع پشین میں میونسپل کمیٹی کربلا، لاء افسران کی ایوالوشن پالیسی اور محکمہ اقلیتی امور میں گرانٹ ان ایڈ ترمیمی پالیسی کی منظوری دی ہے۔
بلوچستان کابینہ نے چائلڈ لیبر سے متعلق بھی اہم فیصلہ کیا ہے، فیصلے میں 16 سال سے کم عمر بچوں سے جبری مشقت نہیں کرائی جاسکے گی جبکہ کابینہ نے محکمہ ہائیر ٹیکنیکل ایجوکیشن کو لازمی سروسز قرار دے دیا۔
صوبے بھر میں کنٹریکٹ پر بھرتی اساتذہ کی تعلیمی اسناد تصدیق کرانے کا فیصلہ بھی ہوا جس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم کو ڈگریوں کی تصدیق کا ٹاسک دے دیا، وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر جعلی ڈگری ہولڈر کے خلاف ایف آئی آر درج ہوگی، ڈگریوں کی تصدیق کا آغاز نصیر آباد اور ڈیرہ بگٹی سے ہوگا۔
بلوچستان کابینہ کا قومی نصاب کو نئے تعلیمی سال 2026،27 سے صوبائی نصاب کا حصہ بنانے پر اتفاق کیا گیا تاہم صوبائی کابینہ کا چیف منسٹر اکیڈمک ایکسیلینس پروگرام برائے کوالٹی ٹیچرز سپورٹ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ مڈل، ہائی اور ہائیر سیکنڈری اسکولوں میں ایڈہاک پر ریاضی ، سائنس ، اور انگریزی کے ٹیچرز بھرتی کرنے کا فیصلہ بھی ہوا۔