خلاصہ
- کراچی: (دنیا نیوز) پیپلز پارٹی کے رہنما و سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ کیا 18 ویں ترمیم ختم کرنے اور کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات نہیں ہوں گے؟ سانحہ گل پلازہ کو افسوسناک اور دردناک سمجھتے ہیں، قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں اس پر ہر آنکھ اشکبار ہے، ہر پاکستانی اس پر افسردہ و غمزدہ ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا کہ گل پلازہ کے واقعہ سے جان نہیں چھڑارہے اورنہ چھڑانا چاہتے ہیں، سمجھتے ہیں لواحقین کے نقصان کا ازالہ نہیں ، 18ویں ترمیم آئینی طریقہ کار سے آئی، خواجہ آصف نے جو بیان دیا وہی آج مصطفیٰ کمال نے دیا، پتہ نہیں اس واقعہ پر ایسے بیانات کے پیچھے ان کا مقصد کیا ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کوئی حادثہ ہوجائے تو 18ویں ترمیم درمیان میں لے آتے ہیں، ایسے واقعات پر 18ویں ترمیم کا ذکر کم عقلی ہی ہوسکتی ہے، مصطفیٰ کمال 12مئی کا دفاع کررہے تھے تو ان کو خود کہاں ہونا چاہئے؟ آپ نے مخالفین کو دھمکیاں دیں، 12مئی میں یہ خود ملوث تھے، شاہراہ بھٹو کی لائٹیں کس کے کہنے پر بند کی گئیں؟
انہوں نے کہا کہ کراچی ایک میٹروپولیٹن سٹی ہے، کراچی کی آبادی صحیح گنی جائے تو3کروڑ سے زیادہ ہے، اسد قیصر کے صوبے میں ہر چیز ٹھیک تو لوگ وہاں سے کاروبار کیلئے یہاں کیوں آتے ہیں؟ پورے پاکستان میں پورٹ ایک ہی ہے اوروہ کراچی میں ہے، پورے پاکستان سے ہیوی ٹریفک کراچی پورٹ پر ہی آتی ہے، کراچی کو سب سے زیادہ سہولیات دینے کی ضرورت ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ چند شرارتی لوگ گل پلازہ واقعہ کے موقع پر بیانات دے رہے ہیں، کوئی اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہوکر 18ویں ترمیم کی بات کررہا ہے، آتشزدگی کے واقعہ پر بیانات دینے والے لوگ موقع پرست ہیں، یہ خود کو کراچی کا نام نہاد دعویدار کہتے ہیں، یہ خود وفاقی وزیر صحت ہیں، آکر پوچھا کہ کیا مدد کرسکتا ہوں؟ اس وقت کہاں غائب ہیں؟
انہوں نے کہا کہ یہ عہدوں کیلئے اپنے قائد کے سامنے جی بھائی جی بھائی کرتے تھے، جب لوگوں کی جانیں لی جارہی تھیں کیوں خاموش تھے، آپ 12مئی اوربلدیہ فیکٹری واقعے پر کیوں خاموش تھے، آپ کے منہ سے ایسی باتیں اچھی نہیں لگتیں، یہ صاحب خود بھی میئر کراچی تھے، مریضوں سے نامناسب الفاظ استعمال کرتےتھے، اس طرح کے لوگ قائد بھی بدلتے رہتے ہیں۔
صوبائی سینئر وزیر نے کہا کہ مصطفیٰ کمال کی ایک ایک بات کا منہ توڑ جواب میرے پاس موجود ہے، ہم اس وقت ان کے ٹریک پر نہیں چلنا چاہتے، میں آج سیاسی بیان بازی نہیں کرنا چاہتا، بہادرآباد اورپی ایس پی کی آپسی لڑائیوں سے ہمارا واسطہ نہیں ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وفاقی حکومت سمجھتی ہے کہ ان کے پاس کوئی آگ پر قابوپانے کی ٹیکنالوجی تھی تو ان کو نہیں روکا تھا، ہم نے کسی کو منع نہیں کیا کہ گل پلازے پر کام نہ کریں، ساری دنیا آگ دیکھتی رہی۔
یاد رہے کہ سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کی بحالی تحریک کے دوران بارہ مئی کو کراچی میں فسادات ہوئے تھے جن میں 40 افراد مارے گئے تھے۔