خلاصہ
- لاہور: (محمد اشفاق)لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر وکیل کو جواب الجواب داخل کرانے کی ہدایت کر دی، ایک درخواست پر فریقین سے جواب طلب کرلیا گیا۔
لاہورہائیکورٹ کے جسٹس اویس خالد نے جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر درخواستوں پر سماعت کی، درخواستوں میں نشاندہی کی گئی کہ پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ ایکٹ آئین سے مطابقت نہیں رکھتا، آئین ریاست کے شہریوں کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے اور شہریوں کو آزادنہ زندگی جینے کے حقوق دیتا ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ حکومت نے پتنگ بازی پر سخت سزا اور پابندی عائد کی تھی لیکن حکومت کی جانب سے پتنگ بازی کی اجازت خطرناک اقدام ہے، ماضی میں بھی پتنگ بازی سے ہلاکتیں ہوئی ہیں، استدعا کی جاتی ہے کہ درخواست کے فیصلے تک ڈپٹی کمشنر کو پتنگ بنانے کی اجازت کے نوٹیفکیشن کو فوری معطل کرنے کا حکم دیا جائے۔
یہ بھی استدعا کی گئی کہ پتنگ بازی کی اجازت دینے کے ایکٹ کو کالعدم قرار دیا جائے۔
دوران سماعت عدالت میں حکومت پنجاب اور سی سی پی او لاہور نے تحریری جواب میں آگاہ کیا کہ پتنگ بازی کے لیے ایس او پی بنا دیے گئے ہیں، خلاف ورزی پر بھاری جرمانے اور قید ہو گی، لاہور کو ریڈ، گرین، بلیو اور ییلو زون میں تقسیم کر دیا گیا ہے، پتنگ بازی والڈ سٹی کی حدود میں مخصوص علاقوں میں ہوگی۔
عدالت نے ایم پی اے شیخ امتیاز کی درخواست پر فریقین سے 27جنوری کو جواب طلب کرلیا۔