جاوید بٹ قتل کیس میں اہم پیشرفت، امیر فتح ٹیپو کی عبوری ضمانت کنفرم

جاوید بٹ قتل کیس میں اہم پیشرفت، امیر فتح ٹیپو کی عبوری ضمانت کنفرم

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے ملزم کی درخواست ضمانت قبل از گرفتاری پر سماعت کی، سماعت کے دوران ملزم امیر فتح ٹیپو اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوا، ملزم کے وکیل عابد ساقی نے مؤقف اختیار کیا کہ 12 دسمبر 2024 کو عدم پیروی کی بنیاد پر ملزم کی ضمانت خارج کی گئی تھی جبکہ درخواست گزار کا واقعے میں کوئی کردار نہیں ہے۔

وکیل کے مطابق مدعی کی والدہ کا میڈیکل وقوعہ کے پانچ گھنٹے بعد کروایا گیا اور ایف آئی آر میں نامزد ہونے کے باوجود مقتول کی بیوہ ملزم کا نام ڈاکٹر کو نہیں بتا سکیں، ہمراہی ملزم قیصر سہیل کی درخواست ضمانت راضی نامے کی بنیاد پر منظور ہو چکی ہے جبکہ درخواست گزار کے بھائی اور ہمراہی ملزم امیر مصعب کی ضمانت بھی عدالت سے منظور ہو چکی ہے، لہٰذا امیر فتح ٹیپو کی عبوری ضمانت کنفرم کی جائے۔

دوران سماعت مقتول جاوید بٹ کی بیوہ کی جانب سے وکیل پرویز عنایت ملک نے وکالت نامہ جمع کروایا، وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی آر کے اندراج کے روز ہی بیوہ کا بیان مجسٹریٹ کے سامنے قلمبند ہوا تھا، تفتیشی افسر ڈی ایس پی نے ٹرائل کورٹ میں کہا کہ ملزم کی گرفتاری ضروری درکار ہے اور ملزم کے خلاف شواہد موجود ہیں، اس لیے درخواست ضمانت خارج کر کے ملزم کو پولیس کے حوالے کیا جائے۔

دوران سماعت تفتیشی افسر ڈی ایس پی قمر عباس نے عدالت کو آگاہ کیا کہ امیر فتح ٹیپو واقعے سے حاصل کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر نہیں آتا، عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزم کی عبوری ضمانت پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض کنفرم کرنے کا حکم دے دیا۔