خلاصہ
- لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ میں عثمان ڈار کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکلوانے کی درخواست پر عدالت نے درخواست گزار کو ترمیم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کارروائی 27 جنوری تک ملتوی کردی۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے عثمان ڈار کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے ابوذر سیلمان خان نیازی پیش ہوئے۔
دوران سماعت جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے ریمارکس دیے کہ آپ نے درخواست جلد بازی میں دائر کی ہے، درخواست میں نہ ایف آئی آر کا لکھا ہے نہ بتایا ہے کہ ٹرائل چل رہا ہے؟ آئینی ترمیم آچکی ہے اب سوموٹو نہیں ہوسکتا، درخواست درست نہ ہونے کی وجہ سے تاخیر ہورہی ہے کہ آپ الزام عدالتوں پر ڈال دیتے ہیں، اس نقطے پر دلائل دیں کہ ٹرائل کے دوران ملزم بیرون سفر کرسکتا ہے؟ دیکھنا ہے کہ درخواست گزار کا کیس کونسے فورم پر سنا جائے گا۔
عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیس ہائیکورٹ نے سننا ہے یا ٹرائل کورٹ نے؟ یا داد رسی کمیٹی کے پاس بھیجنا ہے، اس نقطے پر دلائل دیں۔
درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ نو مئی کے مقدمات کے بعد عثمان نو مرتبہ بیرون ملک سفر کر چکے ہیں، اچانک ایک حکم آتا ہے جس کے بعد درخواست گزار کا نام دوبارہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا گیا، درخواست گزار کا امپورٹ ایکسپورٹ کا کاروبار ہے، ابھی عثمان ڈار نے عمرہ کی ادائیگی کے لیے جانا ہے۔
دوران سماعت وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عثمان ڈار کے خلاف نو مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کا ٹرائل چل رہا ہے جس پر درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ نے عثمان ڈار کی مستقل حاضری معافی منظور کر رکھی ہے، عثمان ڈار کی جگہ انکا نمائندہ عدالت میں پیش ہو کر حاضری لگواتا ہے، ٹرائل کورٹ نے خود عثمان ڈار کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی۔
وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کی اجازت مخصوص وقت کےلیے تھی، عدالت نے درخواست پر مزید کارروائی 27 جنوری تک ملتوی کردی۔