پنجاب پولیس میں کانسٹیبل کی بھرتی سے متعلق اہم فیصلہ جاری

پنجاب پولیس میں کانسٹیبل کی بھرتی سے متعلق اہم فیصلہ جاری

 

وفاقی آئینی عدالت نے ہوم سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو 90 سال پرانے پولیس میڈیکل رولز پر نظرثانی کرنے کی ہدایت کر دی۔

عدالت کا کہنا ہے کہ پولیس رولز 1934 کے تحت بھرتی کے وقت طبی معائنہ سخت ہونا ضروری ہے، جدید طبی سائنس اور ٹیکنالوجی کی روشنی میں بینائی سے متعلق قوانین میں ترمیم کی ضرورت ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے آئی جی پنجاب کو امیدوار کی بینائی کا دوبارہ معائنہ کرانے کی ہدایت کر دی اور کہا کہ معذور افراد کا اسسمنٹ بورڈ امیدوار کی بینائی کا دوبارہ جائزہ لے۔

عدالت نے امیدوار کو معذوری کوٹے یا دفتری کام کے لیے ایڈجسٹ کرنے پر غور کرنے کی تجویز دی، عدالت نے بینائی کے معیار پر پورا نہ اترنے والے امیدوار کی اپیل خارج کر دی۔

وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ پولیس فورس میں بھرتی کے لیے طبی موزونیت اور فٹنس لازمی شرط ہے، امیدوار کی ایک آنکھ کی بینائی 6/6 جبکہ دوسری کی معیار سے کم پائی گئی۔

عدالت نے کہا کہ طبی ماہرین نے امیدوار کو پولیس کی فیلڈ ڈیوٹی کے لیے غیر موزوں قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ درخواست گزار محمد فرحان نے پنجاب پولیس میں کانسٹیبل کی بھرتی کے لیے اوپن میرٹ پر درخواست دی تھی۔

مقررہ طبی معیار پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے درخواست گزار کو کانسٹیبل کے عہدے کے لیے طبی طور پر غیر موزوں قرار دیا گیا۔

درخواست گزار نے لاہور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی، سنگل بینچ نے کانسٹیبل بھرتی کرنے کا حکم دیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے انٹرا کورٹ اپیل میں اس حکم کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کے جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس محمد کریم خان آغا نے درخواست پر سماعت کی، جسٹس کریم خان آغا نے تحریری فیصلہ جاری کیا۔