خواتین، بچوں کو نشانہ بنانے والے دہشتگردوں سے مذاکرات نہیں ہوں گے: وزیر دفاع

خواتین، بچوں کو نشانہ بنانے والے دہشتگردوں  سے مذاکرات نہیں ہوں گے: وزیر دفاع

قومی اسمبلی میں اظہارخیال کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بھی بلوچوں کی بڑی تعداد موجود ہے،بلوچستان میں میڈیکل کالجزسمیت بڑی تعداد میں تعلیمی و تربیتی ادارے موجود ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ کوئی شک نہیں وفاق سمیت ہر صوبے میں کرپشن ہے، کرپشن ایک ایسا دیمک ہے جو ہمارے قومی سٹرکچر کو کھا رہا ہے، بلوچستان میں تیل سمیت مختلف اشیا کی روزانہ سمگلنگ ہو رہی ہے، تیل کی سمگلنگ سے دہشت گرد روزانہ 4 ارب کما رہے ہیں اور ایران سے 40 روپے لٹر تیل لے کر کراچی میں200 روپے لٹر بیچ رہے ہیں۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ این ایف سی کے تحت بلوچستان کا حصہ 933 ارب روپے ہے، بلوچستان میں جرائم پیشہ افراد محرومیوں کا بیانیہ بناتے ہیں، جو دہشت گرد مارے جا رہے ہیں اِن کا مسنگ پرسن میں نام ہے، مسنگ پرسن مسقط، عمان، دبئی میں بیٹھے اور اُن کی فیملیز یہاں ریاست سے الاؤنس لے رہی ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ کلبھوشن یادیو بلوچستان سے پکڑا گیا، بھارت دہشت گردی میں ملوث ہے، دہشت گردوں کے پاس20،20 لاکھ روپے کی رائفل ہے، دہشت گرد امریکی اسلحہ استعمال کرتے ہیں، دہشت گردوں اور اُن کے سہولت کاروں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ خواتین اور بچوں پر حملہ کرنے والوں سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، دہشت گرد معصوم شہریوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں، سیاست دان اپنے اختلافات بھلا کر سکیورٹی فورسز کے پیچھے کھڑے ہوں، میری اپیل ہے اِس ایک ایشوز پر سب کو متحد ہونا ہوگا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ دہشت گردوں کو ریاست کی طاقت کےساتھ جواب دیا جائے گا، پورا ایوان دہشت گردی کے خلاف یکجا ہو جائے، دہشت گردوں کے خلاف لڑنا صرف افواج نہیں پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔