گورنر سندھ کی تبدیلی پر حکومت نے اعتماد میں نہیں لیا: خالد مقبول صدیقی

گورنر سندھ کی تبدیلی پر حکومت نے اعتماد میں نہیں لیا: خالد مقبول صدیقی

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم جو آوازاٹھا رہے تھے اس کی سزا ہمیں بھی تو ملنی تھی ناں، ہم جو کر رہے تھے اس کی کوئی نہ کوئی تو سزاملنی تھی۔

چیئرمین ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ الیکشن سے پہلے کہا تھا وزارت مل جائے تو یہاں تعلیمی ایمرجنسی لگائیں گے، صوبہ سندھ میں تعلیم کا بجٹ سب سے زیادہ ہے، آج صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ جہالت ہے، یہاں کراچی یونیورسٹی کے علاوہ کوئی بنی ہی نہیں۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کئی چیزوں پر ہم نے لڑ کر حکومت کا ساتھ دیا، اپریل 2023 میں شہر میں 1 کروڑ 60 لاکھ کی آبادی ایک کروڑ 30 لاکھ کر دی گئی، شہر میں 30 لاکھ آبادی کم کر دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ہماری روایت رہی کہ ہم استعفے دیتے رہے، حکومت سے بات کی تھی کہ سندھ کے شہری علاقوں سے گورنر بننے کی روایت رہی، سندھ کے شہری علاقوں کا مینڈیٹ ہمارے پاس ہے، حکومت کو اعتماد میں لینے کی ضرورت تھی جس میں کمی ہوئی۔

چیئرمین ایم کیو ایم نےکہا کہ ہماری خدمت کی بنیاد 1979 کی ہے، پہلے خدمت کی بنیاد رکھی گئی پھر سیاسی تاریخ کا آغاز ہوا، کراچی نے گزشتہ 77 برس سے ٹیکس دینے کی ذمہ داری لی ہوئی ہے، سب سے امیر شہر میں سب سے زیادہ غربت ہے

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ جن کا جینا مرنا اس شہر کے ساتھ ہے وہ آج سب سے زیادہ متاثر ہیں، کراچی 2008 اور 2009 میں دنیا کے ایمرجنگ شہروں میں تھا، پاکستان اقوام عالم میں سر اٹھا کر چلنے کیلئے بنا تھا، کراچی کے فنڈزسے ہی پورے ملک میں موٹروے موجود ہے۔

چیئرمین ایم کیو ایم نے کہا کہ کراچی اور حیدرآباد کے درمیان کوئی موٹروے نہیں، جو لوگ یہاں کمانے آتے ہیں وہ ڈکٹیٹ کر رہے ہیں، گزشتہ 50 سال سے اس شہر کو لوٹا جا رہا ہے، کراچی میں ڈمپر ماؤں کے لال کچل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ درخواست کر رہے ہیں عید سے پہلے پہلے واضح بیان آجانا چاہئے، سپاہی اور چور دونوں کا تعلق اس شہر سے نہیں ہے، گزشتہ 15 سال میں یہاں کی زمینوں پر قبضہ کیا گیا، لگتا ہے شہر کی زمینوں پر قبضہ کرنے میں قومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔