خلاصہ
- اسلام آباد: (عدیل وڑائچ) پاکستان میں بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں گزشتہ ایک دہائی سے ملکی معیشت کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں، مہنگی بجلی نے نہ صرف عام صارف کی قوتِ خرید کو متاثر کیا ہے بلکہ ملکی صنعت، برآمدات اور سرمایہ کاری کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔
ٹیکسٹائل، سٹیل، سیمنٹ، کیمیکل اور دیگر برآمدی صنعتوں کی بڑی تعداد یا تو اپنی پیداواری صلاحیت کم کرنے پر مجبور ہوئی یا مکمل طور پر بند ہوگئی، صنعتکار مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ پاکستان میں بجلی کے نرخ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں، جس کی بنیادی وجہ بجلی کے شعبے کا ناقص مالیاتی ڈھانچہ، مہنگے پاور پرچیز معاہدے، آئی پی پیز کو دی جانے والی کپیسٹی پیمنٹس ، گردشی قرضہ اور بجلی کے بلوں پر عائد بھاری ٹیکس ہیں۔
آئی پی پیز کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کے تحت حکومت ان کمپنیوں کو صرف پیدا کی گئی بجلی کی قیمت ادا نہیں کرتی ان کے پلانٹس کی دستیاب پیداواری صلاحیت برقرار رکھنے کے عوض بھی ادائیگی کرتی ہے، یعنی آپ بجلی خریدیں یا نہ ان کمپنیوں کو معاہدے کے تحت ادائیگی کرنا ہوگی، اسے کپیسٹی پیمنٹ کہا جاتا ہے، اس نظام کے تحت اگر بجلی گھر ایک یونٹ بھی بجلی پیدا نہ کرے تب بھی حکومت معاہدے کے مطابق اسے ادائیگی کرنے کی پابند ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ بجلی کی طلب میں کمی کے باوجود صارفین کے بل کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھتے رہے۔
نیپرا کی جانب سے گزشتہ روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ میں پیش کی گئی تفصیلات میں بتایا گیا کہ پچھلے پانچ مالی سالوں یعنی مالی سال 2022ء سے مالی سال 2026 ء کے اپریل تک حکومت نے بجلی کی پیداواری کمپنیوں کو مجموعی طور پر 13 ہزار 397 ارب روپے سے زائد کی ادائیگیاں کیں۔
حیران کن طور پر ان ادائیگیوں میں 6 ہزار 275 ارب روپے استعمال شدہ بجلی کی اصل قیمت تھی جبکہ 7 ہزار 121 ارب روپے کپیسٹی پیمنٹ کی مدت میں ادا کئے گئے، یعنی اصل خریدی گئی بجلی سے زیادہ ادائیگی اس بجلی کیلئے کی گئی جو خریدی ہی نہیں گئی، اس کا مطلب یہ ہے کہ صارفین نے جو بجلی استعمال کی وہ رقم تو ادا کی مگر اس سے زیادہ رقم بجلی نہ خرید کر بھی ادا کی، یہ ادائیگی صارفین نے بجلی کے مہنگے نرخوں کی صورت میں ادا کی۔
نیپرا دستاویزات کے مطابق 2022ء میں حکومت نے بجلی کی خریداری پر 14 سو ارب روپے جبکہ اسی سال کپیسٹی پیمٹنس کی مد میں 829 ارب روپے سے زائد ادا کئے، مالی سال 2023ء میں بجلی کی اصل خریداری کم ہوگئی اور کپیسٹی پیمنٹ 1300 ارب روپے تک پہنچ گئی اس سال بجلی کی اصل قیمت 1271 ارب روپے تک ادا کی گئی۔
یہ وہ پہلا سال تھا جب بجلی کی اصل قیمت کپیسٹی پیمنٹ سے کم ہونا شروع ہوگئی، 2024ء میں صورتحال مزید تشویشناک ہوگئی اور بجلی کی خریداری پر 1189 ارب جبکہ بجلی نہ خریدے جانے پر کپیسٹی پیمنٹس کی مد میں 1902 ارب روپے ادا کئے گئے، مالی سال 2025ء میں بجلی کی خریداری پر 1149 ارب روپے اخراجات آئے مگر اس سال صارفین نے بجلی استعمال نہ کرنے کے 1807 ارب روپے مہنگی بجلی کی صورت میں ادا کئے، مالی سال 2026ء میں اپریل تک بجلی کی اصل قیمت 1023 روپے تھی، 1430 ارب روپے کپیسٹی پیمنٹ کی مد میں واجب الادا ہوئے۔
یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ گزشتہ پانچ برسوں میں بجلی کی اصل پیداواری لاگت میں مسلسل کمی آئی مگر بجلی کے بلوں کا بڑا حصہ کپیسٹی پیمنٹس کی نذر ہوتا رہا، یہی وجہ ہے کہ بجلی کے نرخ کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھتے گئے اور اس کی قیمت آنے والے کئی برسوں میں صارفین کو ادا کرنا ہوگی۔
اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ ماضی میں کیے گئے ایسے معاہدے ہیں جن میں سرمایہ کاروں کو ڈالر میں منافع، یقینی ریٹرن اور پلانٹس کی مکمل دستیابی کی ضمانت دی گئی، روپے کی قدر میں کمی کے ساتھ ان معاہدوں کی مالی لاگت بھی کئی گنا بڑھتی گئی جس کا براہ راست اثر بجلی کے صارفین پر منتقل کیا جاتا رہا۔
2022 ء کے بعد کپیسٹی پیمنٹس میں 100 فیصد سے بھی زیادہ اضافے کی بڑی وجہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی تھی، آئی پی پیز کے ساتھ ڈالرز میں کئے گئے معاہدے عوام کیلئے مصیبت بن گئے، یہی وجہ ہے کہ 2022ء میں 829 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ 2025ء میں 1800 ارب سالانہ تک پہنچ گئی، صرف یہی نہیں رہی سہی کسر بجلی کے بلوں میں ٹیکسوں نے نکال دی، بھاری بھر کم ٹیکسوں نے عوام کا بھرکس نکال دیا، اس بات کا انکشاف سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں کیا گیا کہ مالی سال 2026ء کے دوران بجلی کے بلوں پر ایف بی آر نے 476 ارب روپے کے ٹیکس اکٹھے کئے، ان ٹیکسوں میں 351 ارب روپے کے سیلز ٹیکس اور 124 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں وصول کئے گئے۔
کمیٹی اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ بجلی کے بلوں کو ٹیکس وصولی کا سب سے آسان ذریعہ بنا دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں عام آدمی شدید دباؤ کا شکار ہے، لوگوں کے گریبان پکڑ کر ٹیکس لیا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ ٹیکس شامل ہونے کے بعد بجلی کا ایک یونٹ تقریباً 84 روپے تک چلا جاتا ہے۔
چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے کمیٹی کو بتایا کہ بجلی بلوں پر سٹینڈرڈ شرح کے مطابق سیلز ٹیکس عائد ہے، بجلی کے شعبے پر دیئے گئے استثنیٰ ختم ہوں تو اس سے زیادہ ٹیکس اکٹھا ہو سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے بجلی کے شعبے پر مزید ٹیکس عائد ہونے چاہئیں۔
صرف یہی نہیں بجلی کے ترسیلی نقصانات، بجلی چوری اور انتظامی مسائل کے باعث نقصانات کا بوجھ بھی بل ادا کرنے والا صارف ہی اٹھا رہا ہے، اگرچہ حکومت نے گزشتہ دو برسوں کے دوران متعدد آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی، کچھ معاہدوں کی قبل از وقت تکمیل اور ادائیگیوں میں کمی کیلئے کوشش کی تاہم اس میں خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی۔
بجلی کے شعبے کی مکمل اصلاح اس وقت تک ممکن نہیں جب تک گردشی قرضے، مہنگے معاہدوں، ترسیلی نقصانات، بجلی چوری اور غیر مؤثر تقسیم کار کمپنیوں کے مسائل کا مستقل حل نہ نکالا جائے، پاکستان کی صنعتی بحالی، برآمدات میں اضافہ اور معاشی نمو کا براہ راست تعلق سستی بجلی سے ہے، جب تک صنعت کو مسابقتی نرخوں پر توانائی فراہم نہیں کی جائے گی، ملکی مصنوعات عالمی منڈی میں مقابلہ نہیں کر سکیں گی، نئی سرمایہ کاری نہیں آئے گی اور روزگار کے مواقع بھی محدود رہیں گے۔