8 اسلامی ممالک کا غزہ میں فوری امداد اور اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کا مطالبہ

8 اسلامی ممالک کا غزہ میں فوری امداد اور اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کا مطالبہ

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور قطر کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ غزہ میں فوری، محفوظ اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنانا ضروری ہے۔

مشترکہ بیان میں جنگ بندی کے تحفظ اور تمام خلاف ورزیوں کے خاتمے پر زور دیا گیا، جبکہ اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا اور بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی کا مطالبہ کیا گیا۔

آٹھ اسلامی ممالک نے قومی کمیٹی برائے انتظام غزہ کی پورے غزہ میں ذمہ داریوں کے آغاز پر بھی اتفاق کیا۔

بیان میں فلسطینیوں کی زبردستی بے دخلی اور کسی بھی علاقائی یا آبادیاتی تبدیلی کو مسترد کرتے ہوئے بستیوں کی توسیع، فلسطینی اراضی پر قبضے، گھروں کی مسماری اور آبادکاروں کے تشدد کی مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم کے مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت متاثر کرنے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا، جبکہ برطانیہ اور یورپی ممالک کی جانب سے غیر قانونی بستیوں سے تجارت روکنے کے اقدامات کو خوش آئند قرار دیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ غزہ فلسطینی علاقے کا حصہ ہے اور اسے مغربی کنارے، بشمول مشرقی یروشلم، سے یکجا رکھنا ضروری ہے۔

وزرائے خارجہ نے مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنانے والی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے دو ریاستی حل کو ناگزیر قرار دیا۔

پاکستان سمیت آٹھ اسلامی ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کو سراہتے ہوئے تنازع کے حل کے لیے امریکا کے فعال کردار پر زور دیا۔

مشترکہ بیان میں امریکا، بورڈ آف پیس اور فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔