مجوزہ خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2026، پولیس کمانڈ میں بڑی تبدیلیوں کی تجویز

مجوزہ خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2026، پولیس کمانڈ میں بڑی تبدیلیوں کی تجویز

ذرائع کے مطابق مجوزہ قانون کے تحت آئی جی پولیس، آر پی اوز اور ڈی پی اوز کی تعیناتی، تبادلے اور اختیارات کے طریقہ کار میں تبدیلی کی جائے گی اور صوبائی حکومت کا کردار بڑھایا جائے گا۔

مجوزہ مسودے میں لکھا گیا کہ صوبائی حکومت کو آئی جی پولیس کی تعیناتی میں اختیار دینے اور وزیراعلیٰ کو آر پی اوز اور ڈی پی اوز کی تعیناتی و تبادلے کا اختیار دینے کی تجویز زیرغور ہے۔

اِسی طرح موجودہ قانون میں پولیس کمانڈ کے بعض اہم اختیارات آئی جی کے پاس ہیں، جبکہ 2024 میں بھی ڈی پی اوز اور آر پی اوز کی پوسٹنگ و تبادلوں کے اختیارات سے متعلق ترامیم کی گئی تھیں۔

تازہ رپورٹس  میں بتایا گیا کہ مجوزہ ترامیم میں پبلک سیفٹی کمیشن کے قیام اور پولیس کے لیے نگرانی و شکایات کے نئے نظام کی تجاویز بھی شامل ہیں۔

صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کا کہنا تھا کہ پولیس ایکٹ میں اصلاحات کا مقصد پولیس کو مزید مؤثر بنانا، اختیارات کے غلط استعمال کی روک تھام اور چیک اینڈ بیلنس کا نظام بہتر کرنا ہے، پولیسنگ صوبائی معاملہ ہے اور صوبائی حکومت اپنے اختیار کو مؤثر انداز میں استعمال کرنا چاہتی ہے۔

دوسری جانب پولیس حکام کی جانب سے مجوزہ تبدیلیوں پر تحفظات سامنے آنے کی اطلاعات ہیں، بعض رپورٹس کے مطابق ابتدائی مسودے میں ڈی آر سی نظام میں بھی تبدیلی یا اسے ختم کرنے کی تجویز زیرغور ہے، جبکہ پولیس پالیسی اور اعلیٰ افسران کی تعیناتی کے طریقہ کار میں بھی تبدیلیاں شامل ہیں۔

مجوزہ قانون کے حوالے سے بنیادی بحث یہ ہے کہ پولیس کی انتظامی جواب دہی اور منتخب حکومت کا اختیار بڑھانے کے ساتھ پولیس کی پیشہ ورانہ خودمختاری اور کمانڈ کا توازن کیسے برقرار رکھا جائے گا۔

دوسری جانب خاص طور پر خیبرپختونخوا میں دہشت گردی اور امن و امان کے چیلنجز کے تناظر میں اعلیٰ پولیس کمانڈ کی تعیناتی اور فیلڈ افسران کے تبادلوں کا طریقہ کار اہمیت رکھتا ہے۔

2017 خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ کے تحت پولیس پالیسی بورڈ کی سربراہی صوبائی پولیس افسر کے پاس تھی، جبکہ موجودہ قانونی فریم ورک میں بھی وزیراعلیٰ کو امن و امان سے متعلق بعض اختیارات حاصل ہیں۔

مزید برآں  مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 ابھی مسودے کے مرحلے میں ہے، اس لیے اس کی تمام شقوں کو حتمی قانون قرار دینا درست نہیں ہوگا، دستیاب رپورٹس میں بھی اسے مجوزہ ترامیم یا ابتدائی مسودہ قرار دیا گیا ہے۔