سہیل آفریدی حفاظتی تحویل میں ہیں، گرفتار نہیں کیا گیا: عطا تارڑ

سہیل آفریدی حفاظتی تحویل میں ہیں، گرفتار نہیں کیا گیا: عطا تارڑ

پروگرام ’’ٹونائٹ ود ثمر عباس‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بعض افراد کے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ روابط کے شواہد موجود ہیں۔

 اُنہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی اپنے دوروں کے دوران مختلف مقامات پر گئے اور وہاں دہشت گردوں سے اپنے لوگوں کا خیال رکھنے کی بات کی، ایسے اقدامات کے ذریعے لوگوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال کر سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، انہوں نے سہیل آفریدی پر صوبے میں دہشت گردی روکنے میں ناکامی کا الزام بھی عائد کیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں کا گورنر ہاؤس کو آگ لگانے اور وہاں توڑ پھوڑ کرنے کا منصوبہ تھا، تاہم ان کے بقول لوگ اس مقصد کے لیے باہر نہیں نکلے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ شفیع جان بھی بھاگ گئے ہیں اور لانگ مارچ کو آگے بڑھانے والا کوئی نہیں رہا، سہیل آفریدی کو سیاسی طور پر کمزور قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ صوبے میں گھومتے گھومتے گم ہو گئے۔

اُن کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کی حیثیت معطل ہو چکی ہے اور صوبے میں ان ہاؤس تبدیلی جیسا کوئی معاملہ زیر غور نہیں، ان کا کہنا تھا کہ صوبے کو ایک نیا سیٹ اپ بڑی مہارت سے چلائے گا، جبکہ سہیل آفریدی کی واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس منگل کو بلایا جائے گا جب کہ اُن کا خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے معاملے پر سنجیدہ نہیں تھی اور اس کی نیت بھی درست نہیں تھی۔

عطا تارڑ کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ 9 مئی کے مقدمات میں مفرور افراد کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جائے گی۔