غاگ، سوارہ، وٹہ سٹہ جیسی فرسودہ رسومات مسترد، قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار

غاگ، سوارہ، وٹہ سٹہ جیسی فرسودہ رسومات مسترد، قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار

جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے 9 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ریکارڈ سے کوئی غلطی یا خامی ثابت نہ ہو تو عدالت اپنے فیصلوں پر نظرثانی نہیں کر سکتی، زندگی کی امید کے اصول کا فائدہ ہر سزائے موت کے قیدی کو یکساں طور پر نہیں دیا جا سکتا۔

فیصلے کے مطابق زندگی کی امید کا فائدہ حاصل کرنے کے لیے تین شرائط کا پورا ہونا لازمی ہے، قیدی کم از کم 25 سال قید کاٹ چکا ہو، خاص عذر موجود ہو یا جرم انتہائی سنگین نوعیت کا نہ ہو، عمر قید اور سزائے موت کے قیدی کو قانونی طور پر ایک ہی کیٹیگری میں نہیں رکھا جا سکتا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ درخواست گزار محمد کامران نے صرف 14 سال جیل میں گزارے، اس لیے وہ زندگی کی امید کے اصول کا اہل نہیں ہے، مجرم کے مطابق مقتولہ اور اس کے والدین کی جانب سے رشتہ مسترد کرنے پر اس نے قتل کیا، مجرم نے ذاتی نوعیت کے جرم میں نرمی مانگی۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ شادی کوئی زبردستی کا معاہدہ نہیں بلکہ دونوں فریقین کی آزادانہ رضامندی پر مبنی ہے، عورت کوئی شے یا مال نہیں جسے زبردستی حاصل کیا جا سکے۔

فیصلے میں پختونخوا کی فرسودہ اور جابرانہ رسم  غاگ ، جرگوں کے تحت ہونے والی  سوارہ  یا ونی اور  وٹہ سٹہ  کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ مرد کا عورت پر زبردستی حق جتانے کا یہ فرسودہ ذہن سرحدوں تک محدود نہیں ہے۔

سپریم کورٹ نے آلا کاچو اور ٹیلیفا جیسی جبری شادی کی روایات کے ساتھ اینتھروپولوجسٹ گیل روبن کے نظریے  دی ٹریفک اِن ویمن  (The Traffic in Women) کا بھی حوالہ دیا۔

عدالت نے کہا کہ تاریخ میں صدیوں سے عورت کو مردوں کے درمیان تبادلے کی شے یا کموڈیٹی کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، اسلام نکاح کے لیے عورت کی آزادانہ رضامندی کو بنیادی شرط قرار دیتا ہے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ زیر نظر کیس میں نرمی کا کوئی پہلو موجود نہیں بلکہ یہ انتہائی گھناؤنے اور سنگین جرم کی واضح مثال ہے، لہٰذا مجرم کی نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔