وزیراعلیٰ اور سپیکر خیبر پختونخوا کی گرفتاری جمہوریت نہیں: بیرسٹر گوہر

وزیراعلیٰ اور سپیکر خیبر پختونخوا کی گرفتاری جمہوریت نہیں: بیرسٹر گوہر

وفاقی دارالحکومت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان کا کہنا تھا کہ مخالفین کے پاس پہلے ہی وفاق، پنجاب، سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت تمام حکومتیں تھیں، ہماری صرف ایک حکومت تھی، وہ بھی چھین لی گئی۔

اُنہوں نے کہا کہ ہماری حکومت لینے کی کیا ضرورت تھی؟  آپ کے پاس دو دو گورنرز، چیئرمین اور سپیکر بھی تھے، اس کے باوجود ہماری حکومت ختم کر دی گئی، وزیراعلیٰ اور سپیکر کو گرفتار کرنا جمہوریت نہیں ہے۔

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کا کہنا تھا  کہ کوئی ہے جو ملک اور اس کے سب سے بڑے ادارے کے درمیان دراڑیں ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے، کوئی ایسا عنصر ہے جس کے مفادات اس عمل سے وابستہ ہیں۔

بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ ہم نے بارہا کہا اور ثابت بھی کیا ہے کہ ہم محب وطن ہیں، پاکستان اور ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان مضبوط ہو، ریاست مستحکم ہو اور معیشت ترقی کرے، پی ٹی آئی نے ہمیشہ مسلح افواج کی قربانیوں کو سراہا ہے اور ان قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔

اپوزیشن لیڈر کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنایا ہے اور جب تک انہیں بانی پی ٹی آئی کا اعتماد حاصل ہے، محمود خان اچکزئی ہی اپوزیشن لیڈر رہیں گے۔

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو مذاکرات کا اختیار بھی دیا ہے، مذاکرات بھی یہی دونوں رہنما کریں گے۔

بیرسٹر گوہر خان نے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ سے اپیل کی کہ فل کورٹ تشکیل دے کر ان کی درخواست کی سماعت کی جائے، آج ان کی جماعت کے ایک اور رکن قومی اسمبلی کو گرفتار کر لیا گیا ہے، وہ ایک عالم دین ہیں، آخر یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟

پارٹی کے اندر اختلاف رائے سے متعلق سوالات پر اُنہوں نے کہا کہ کمیٹی اور سیاسی کمیٹی میں اختلاف رائے ہوتا رہتا ہے، ہم ایک جمہوری جماعت ہیں جہاں کھل کر گفتگو ہوتی ہے اور ہر شخص کو اپنی رائے دینے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کا مزید کہنا تھا کہ پارٹی کے اجلاس چار چار گھنٹے تک جاری رہتے ہیں اور ہر رکن کو بات کرنے کا پورا موقع دیا جاتا ہے، تاہم اندر کی بات اندر ہی رہنی چاہیے۔