خلاصہ
- نئی دہلی: (دنیا نیوز) دہلی حکومت نے لاکھوں بھارتی روپے خرچ کیے لیکن شہر پر مصنوعی بارش نہیں کروا سکی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں زہریلی ہوا سے نمٹنے کے لیے مقامی حکومت نے اکتوبر 2025 میں مصنوعی بارش (کلاؤڈ سیڈنگ) کا تجربہ کیا، جس پر عوامی فنڈ سے 37.93 لاکھ روپے خرچ ہوئے، مگر بارش نہیں ہو سکی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اس پروجیکٹ کے اخراجات کی تفصیلات، ٹھیکے کا عمل اور نتائج کو پوری طرح چھپایا گیا،
آئی آئی ٹی کانپور کے اس تجربے میں ایک چھوٹے طیارے سے کیمیکل کا چھڑکاؤ کیا گیا، 28 اکتوبر 2025 کو 2 بار کوششیں کی گئیں لیکن بادلوں میں نمی کا تناسب صرف 15-20 فی صد تھا (یعنی ضروری 50 فی صد سے بہت کم)، اس لیے اس کا کوئی خاص نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
مصنوعی بارش کے لیے دہلی حکومت نے آئی آئی ٹی کانپور کو 37,93,420 روپے دیے تھے، تاہم ٹھیکا بغیر ٹینڈر بغیر کابینہ منظوری کے دیا گیا تھا، منصوبے کے سلسلے میں اخراجات جیسے کہ ہوائی جہاز کا خرچ، کیمیکل، افرادی قوت وغیرہ، دینے سے انکار کر دیا گیا، اور ایم او یو جیسے دستاویزات بھی چھپائے گئے۔
آئی آئی ٹی کانپور کامؤقف تھا کہ یہ ایک تحقیقی معاہدہ تھا جس میں تکنیکی اور دانشورانہ املاک کی حساس معلومات ہیں، اس لیے وہ اسے ظاہر نہیں کریں گے۔
واضح رہے کہ کلاؤڈ سیڈنگ ایک سائنسی طریقہ ہے جس میں کیمیکل جیسے سلور آئیوڈائڈ یا نمک کو بادلوں میں اسپرے کیا جاتا ہے، یہ کیمیکل بادلوں میں پانی کی بوندیں بنانے میں مدد کرتے ہیں، جس سے بارش ہوتی ہے۔ لاہور میں کئی بار کامیابی سے مصنوعی بارش کرائی جا چکی ہے۔