خلاصہ
- دبئی: (ویب ڈیسک) رمضان المبارک میں روزے کے باعث ورزش کو معمول کا حصہ بنانا بظاہر مشکل محسوس ہوتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق مناسب منصوبہ بندی اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ ہلکی پھلکی ورزش جاری رکھی جاسکتی ہے۔
دبئی میں مقیم فٹنس ٹرینر اور نیوٹریشن کوچ دیوندر بینس کا کہنا ہے کہ سب سے اہم بات ورزش کا درست وقت منتخب کرنا ہے۔ ان کے مطابق ایسا وقت چننا چاہیے جب معدہ زیادہ بھرا ہوا نہ ہو۔
ان کا مشورہ ہے کہ ورزش کے لیے بہترین وقت افطار کے بعد کا ہے، تاہم اس دوران زیادہ کھانے سے گریز کیا جائے۔ بہتر یہ ہے کہ ہلکی غذا کے ساتھ افطار کرنے کے بعد ورزش کی جائے اور مکمل کھانا بعد میں کھایا جائے۔
اگر کوئی شخص صبح جلد بیدار ہو سکتا ہو تو سحری سے پہلے بھی ورزش کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح جو افراد خالی پیٹ ورزش کرنے کے عادی ہوں وہ افطار سے قبل بھی ہلکی سرگرمی اختیار کر سکتے ہیں، لیکن اس صورت میں پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) کا خدشہ رہتا ہے۔
ٹرینر کے مطابق ورزش سے پہلے اور بعد میں توانائی بحال رکھنے کے لیے سادہ کاربوہائیڈریٹس کے بجائے فائبر سے بھرپور غذاؤں کا انتخاب کیا جائے۔ چاول اور پاستا کے مقابلے میں سبزیاں اور سالم اجناس زیادہ مفید رہتی ہیں۔
پٹھوں کو مضبوط رکھنے کے لیے پروٹین کا استعمال بھی ضروری ہے، اس مقصد کے لیے گوشت، دالیں، لوبیا یا پروٹین شیک استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روزے کے دوران جسم توانائی کے لیے ذخیرہ شدہ کاربوہائیڈریٹس اور پروٹین استعمال کرتا ہے، جس سے پٹھوں کی کمزوری کا امکان ہوتا ہے اس لیے ہلکے وزن یا باڈی ویٹ ایکسرسائز جیسے پش اپس، بیٹھکیں اور کم وزن کے ساتھ سینے اور کندھوں کی ورزش مفید رہتی ہے۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ روزے کے دوران تیز دوڑ یا جاگنگ سے گریز کیا جائے کیونکہ اس سے جسم میں موجود گلائیکوجن تیزی سے ختم ہو سکتا ہے۔ اس کے بجائے افطار سے قبل ہلکی واک بہتر انتخاب ہے۔