خلاصہ
- دبئی: (سید مدثر خوشنود) اگر کوئی شخص موبائل فون استعمال نہ کرے، کوئی واضح الیکٹرانک ڈائوائس اپنے ساتھ نہ رکھے، اور محدود دائرے میں خاموشی سے زندگی گزارنے لگے، تو کیا وہ واقعی دنیا کی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے؟
یہی سوال مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ واقعات کے بعد پھر شدت سے سامنے آیا ہے، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت اور ایرانی سرکاری میڈیا اور بعد ازاں رائٹرز اور بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹوں میں سامنے آئیں، اور اس کے بعد ایران میں قیادت کی تبدیلی اور وسیع علاقائی کشیدگی نے اس بحث کو اور گہرا کر دیا کہ جدید ہائی ویلیو اہداف تک رسائی آخر کن ذرائع سے ممکن بنتی ہے۔
یہ بات واضح ہے کہ کسی مخصوص کارروائی میں کون سی ٹیکنالوجی کس درجے میں استعمال ہوئی، اس کی کھلی تصدیق عموماً نہیں کی جاتی، لیکن اتنا ضرور واضح ہو چکا ہے کہ جدید جنگ صرف بندوق، میزائل، ڈرون یا بارود کی جنگ نہیں رہی، یہ معلومات، نگرانی، رفتار، تجزیے اور بکھرے ہوئے اشاروں کو جوڑنے کی جنگ بنتی جا رہی ہے، آج ہدف ہمیشہ وہ نہیں ہوتا جو دکھائی دے، کبھی وہ بھی ہدف بن سکتا ہے جو سنا جا سکے، محسوس کیا جا سکے، یا معلومات کے اندر ایک پیٹرن کی صورت ابھر آئے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ایک سوال غیر معمولی اہمیت اختیار کرتا ہے: کیا آواز بھی سراغ بن سکتی ہے؟
آواز: جو نظر نہیں آتی، مگر نشان چھوڑ جاتی ہے
فوجی اور انٹیلیجنس دنیا میں آواز کو بطور سراغ استعمال کرنے کا تصور نیا نہیں، ماضی میں فائرنگ کی سمت جاننے، توپ خانے کے مقام کا اندازہ لگانے اور دھماکوں کے منبع تک پہنچنے کے لیے صوتی طریقے استعمال ہوتے رہے ہیں، آج فرق یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت، برق رفتار حسابی نظام، اور مختلف مقامات پر نصب سننے والے آلات نے اس پرانے تصور کو نئی طاقت دے دی ہے۔
اگر کسی مخصوص علاقے میں مختلف مقامات پر حساس acoustic sensors یا دوسرے سننے والے آلات موجود ہوں، تو کسی شخص کی گفتگو، حرکت یا ماحول سے پیدا ہونے والی آوازیں ان تک مختلف اوقات میں پہنچتی ہیں، ان معمولی وقتی فرقوں، سمتوں، شدتوں اور بازگشت کا تجزیہ کر کے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آواز کس سمت سے آئی اور اس کا ممکنہ منبع کہاں ہو سکتا ہے، یہ تصور سائنسی بنیاد رکھتا ہے اور آڈیو سورس لوکلائزیشن، بیم فارمِنگ اور ٹائم ڈفرنس میژرمنٹ جیسے طریقوں میں استعمال ہوتا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ آواز سنی گئی یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ اسے کس نے، کہاں سے، اور کس دوسرے سراغ کے ساتھ ملا کر سنا۔
وائس بائیو میٹرکس
اس بحث کا دوسرا اہم دروازہ وائس بائیو میٹرکس ہے، یہ وہ ٹیکنالوجی ہے جس میں انسانی آواز کو ایک منفرد biological identity کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جس طرح انگلیوں کے نشانات یا چہرے کی ساخت کسی فرد کی شناخت میں مدد دیتے ہیں، اسی طرح آواز میں بھی ایسی خصوصیات ہوتی ہیں جو ہر شخص کو دوسرے سے الگ کرتی ہیں۔
آواز کا اتار چڑھاؤ، جملہ بولنے کی رفتار، سانس کا وقفہ، لہجے کا دباؤ، لفظوں کی ادائیگی اور فریکوئنسی کا انداز، یہ سب مل کر ایک ایسا صوتی نقش بناتے ہیں جسے مصنوعی ذہانت محفوظ اور پہچان سکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ کسی تقریر، محدود گفتگو یا مختصر آڈیو نمونے سے بھی شناختی سراغ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
لیکن یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے، آواز سے شناخت اور آواز سے مقام معلوم کرنا ایک ہی چیز نہیں، وائس بائیو میٹرکس یہ بتا سکتی ہے کہ آواز کس شخصیت سے مشابہ ہے، مگر یہ لازماً نہیں بتاتی کہ وہ شخص کہاں موجود ہے، مقام تک پہنچنے کے لیے اس آواز کو سننے والا ایک منظم نیٹ ورک، مختلف زاویوں سے حاصل شدہ معلومات، اور اضافی تجزیہ درکار ہوتا ہے۔
ماحول بھی بولتا ہے
جدید انٹیلیجنس کا ایک کم زیرِ بحث مگر نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ کبھی کبھی انسان کی آواز سے زیادہ اس کے اردگرد کا ماحول بولنے لگتا ہے، کسی بند کمرے کی بازگشت، پنکھے یا ایئرکنڈیشنر کی مسلسل ہم، جنریٹر کی گونج، دور کی ٹریفک، صنعتی مشینری کی تال، یا کسی مخصوص عمارت کی اندرونی صوتی کیفیت، یہ سب مل کر مقام کے بارے میں اشارے دے سکتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت ان اشاروں کو الگ الگ نہیں دیکھتی، وہ انہیں ایک دوسرے سے ملا کر سمجھنے کی کوشش کرتی ہے، یوں بعض اوقات ایک معمولی acoustic signal بھی اپنے ساتھ ماحول کا پورا خاکہ لے کر آتا ہے، بعض حالات میں آواز کے پھیلاؤ میں شامل باریک acoustic particles اور بازگشت کے نمونے بھی اس تجزیے میں مددگار ہو سکتے ہیں، خاص طور پر جب انہیں دوسرے ذرائع سے حاصل شدہ معلومات کے ساتھ جوڑا جائے۔
یہ اندازے ہمیشہ حتمی نہیں ہوتے، مگر جب یہی سراغ فضائی نگرانی، زمینی مشاہدے، معمولاتِ زندگی اور انسانی اطلاعات کے ساتھ ملتے ہیں تو ایک زیادہ واضح تصویر بنتی ہے۔
اصل طاقت: سننے والا جال اور معلومات کا ملاپ
یہاں آ کر جدید جنگ کا اصل چہرہ سامنے آتا ہے، کسی ایک مائیکروفون یا ایک سننے والے آلے سے صرف اتنا معلوم ہو سکتا ہے کہ آواز سنی گئی، مگر اگر وہی آواز مختلف سمتوں سے سنی جائے تو ان کے درمیان وقت اور زاویے کے فرق سے ممکنہ مقام کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اگر یہ تجزیہ فوری ہو تو ممکنہ نقل و حرکت کا اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ جدید ہائی ویلیو ٹارگٹنگ عموماً کسی ایک ٹیکنالوجی کا نتیجہ نہیں ہوتی، اصل قوت مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے میں ہوتی ہے، فضائی تصاویر، ڈرون نگرانی، زمینی سینسرز، حرارتی اشارے، معمولاتِ زندگی، انسانی ذرائع سے ملنے والی معلومات، اور بعض صورتوں میں صوتی سراغ، جب یہ سب ایک ہی تجزیاتی نظام میں جمع ہوتے ہیں تو ایک ایسی انٹیلیجنس تصویر بنتی ہے جس میں فرد صرف ایک شخص نہیں رہتا بلکہ ایک قابلِ تجزیہ معلوماتی پیٹرن بن جاتا ہے۔
اسی لیے بعض دفاعی ماہرین کہتے ہیں کہ جدید جنگ میں گولی یا میزائل سے پہلے فیصلہ ایک حد تک معلومات کی دنیا میں ہو چکا ہوتا ہے۔
مگر کیا یہ سب ناقابلِ خطا ہے؟
ہرگز نہیں، یہی وہ حصہ ہے جہاں احتیاط لازم ہے، آواز ہوا میں کمزور پڑتی ہے، شور میں دب جاتی ہے، عمارتوں سے ٹکرا کر بدل جاتی ہے، اور بند جگہوں میں بازگشت پیدا کرتی ہے، گنجان شہری علاقوں میں ایک ہی آواز کئی سطحوں پر منعکس ہو سکتی ہے، اگر سننے والا نظام ادھورا ہو، ریکارڈنگ ناقص ہو، یا ماحول جان بوجھ کر بدلا گیا ہو، تو نتیجہ غلط بھی نکل سکتا ہے۔
اسی لیے ٹیکنالوجی جتنی طاقتور ہوئی ہے، غلط نشاندہی کا خطرہ بھی اتنا ہی بڑھا ہے، جدید تجزیہ رفتار تو دیتا ہے، مگر آخری سچ نہیں دیتا۔
ایران کے حالیہ واقعے نے اصل سوال کہاں کھڑا کیا؟
ایران کے حالیہ واقعے کے بعد اصل سوال یہی ہے کہ کیا ہائی ویلیو شخصیات کی حفاظت اب صرف دیواروں، محافظوں، خفیہ مقامات اور محدود رابطوں سے ممکن ہے؟ یا اب ان کے لیے خطرہ ان خاموش سراغوں سے بھی ہے جو آواز، ماحول، معمولات اور مختلف معلومات کے ملاپ سے بنتے ہیں؟
علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کو نئی قیادت کے طور پر سامنے لائے جانے اور اس پورے بحران کے دوران ایرانی قیادت، امریکی انٹیلیجنس اور اسرائیلی بیانات نے یہی ظاہر کیا ہے کہ جنگ کا میدان اب صرف زمین یا فضا میں نہیں، بلکہ معلوماتی ڈھانچوں کے اندر بھی پھیل چکا ہے۔
نتیجہ
جدید دور میں اصل طاقت صرف ہتھیاروں میں نہیں بلکہ معلومات میں بھی ہے۔ آواز کو ٹریس کرنا ممکن ہو سکتا ہے، مگر اس کے لیے ایک سننے والا نظام، اسے سمجھنے والی ٹیکنالوجی، اور مختلف ذرائع سے حاصل شدہ سراغوں کو جوڑنے والا منظم تجزیاتی ڈھانچہ ضروری ہوتا ہے۔ وائس بائیو میٹرکس شناخت کا دروازہ کھول سکتی ہے، ماحول مقام کے بارے میں اشارہ دے سکتا ہے، اور مختلف سنسرز کا جال ایک ممکنہ نقشہ بنا سکتا ہے۔
شاید مستقبل کی جنگ کا سب سے خوفناک پہلو یہی ہے کہ انسان اب صرف اپنے جسمانی وجود سے نہیں، بلکہ اپنے گرد موجود معلوماتی سائے سے بھی پہچانا جا سکتا ہے۔ اور ممکن ہے آنے والے زمانے میں سب سے خطرناک ہتھیار وہ نہ ہو جو نظر آئے، بلکہ وہ ہو جو خاموشی سے سنتا رہے، جوڑتا رہے، سمجھتا رہے اور آخرکار ایک انسان کو اس کے جسم سے نہیں، اس کے معلوماتی سائے سے تلاش کر لے۔