افغان کاروباری خواتین کی کارکردگی مردوں سے بہتر ہے: عالمی بینک

افغان کاروباری خواتین کی کارکردگی مردوں سے بہتر ہے: عالمی بینک

عالمی بینک نے افغانستان کے حوالے سے مالی سال 2025 اور 2026 کی ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں افغانستان میں کاروباری شعبے سے متعلق کے سروے شامل کیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مختلف اکائیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ کاروبار جو خواتین چلاتی ہیں، انہوں نے اشیا کی فروخت، روزگار کے مواقع بڑھانے اور سرمایہ کاری میں مردوں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔

سروے میں وہ کاروبار شامل کیے گئے ہیں، جن میں ملازمین کی تعداد پانچ یا اس سے زائد ہے۔ سروے میں مینوفیکچرنگ اور تعمیرات کی بنیادی صنعتیں شامل کی گئی ہیں جو افغانستان کی نجی صنعتوں کا بالترتیب 27 اور 19 فیصد ہیں۔

عالمی بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2025 اور 2026 میں مردوں کے زیر انتظام کاروبار کی سیل 14 فیصد کے مقابلے میں خواتین کے زیر انتظام کاروبار کی سیل میں 21 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا۔

رپورٹ میں اس بات کا بھی احاطہ کیا گیا کہ خواتین کے زیر انتظام کاروبار میں روزگار کے مواقع 14 فیصد جب کہ مردوں کے کاروبار میں روزگار کے مواقع میں 11 فیصد اضافہ ہوا۔

معاشرتی پابندیوں، مشکلات اور مارکیٹ تک کم رسائی کے باوجود خواتین کے کاروبار میں فکسڈ اثاثوں یعنی کوئی مشینری خریدنے، عمارت بنانے اور دیگر سامان خریدنے میں مردوں کی قیادت میں جاری کاروبار کے مقابلے میں 58 فیصد اضافہ ہوا۔

2021 کے بعد جب افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوئی تو نجی شعبے کو نقصان پہنچا اور بعض صنعتوں کی سرگرمیاں بھی روک دی گئیں، مجموعی صنعتوں سمیت خواتین پر پابندیوں کی وجہ سے خواتین کے کاروبار بھی متاثر ہوئے ہیں لیکن جو موجود ہیں تو مردوں کے مقابلے میں وہ کاروبار بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں۔

اسی سروے کے مطابق افغانستان میں نجی صنعتوں کی بات کی جائے تو اس میں 10.2 فیصد کاروبار خواتین مالکان چلاتی ہیں جس میں سر فہرست مینوفیکچرنگ کا شعبہ ہے اور اس میں سب سے زیادہ 55 فیصد ملبوسات کا شعبہ شامل ہے، خوراک کے شعبے کی صنعتوں میں خواتین مالکان 20 فیصد ہیں اور 13 فیصد ٹیکسٹائل کی صنعت سے وابستہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق خواتین کے زیر انتظام کاروبار کی برآمدگی کی بات کی جائے تو اس میں صرف تقریباً چھ فیصد صنعتیں اپنی مصنوعات برآمد کرتی ہیں۔