خلاصہ
- اسلام آباد: (دنیا نیوز) مشعل پاکستان نے پاکستان کی پہلی سٹیٹ آف فریڈم رپورٹ 2026 جاری کر دی۔
رپورٹ آئین اور قانون میں دی گئی ادارہ جاتی اور شخصی آزادیوں کا شہریوں کے عملی تجربات کے ساتھ جامع موازنہ پیش کرتی ہے۔
رپورٹ کے لیے 2000 رائے دہندگان پر مشتمل ایک ملک گیر سروے کیا گیا جس میں 67 فیصد گریجویٹ، 32 فیصد ماسٹرز اور 1فیصد پی ایچ ڈی ڈاکٹر سے رائے لی گئی۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی 24 کروڑ 50 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، پاکستان کی 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے جبکہ 19 کروڑ 50 لاکھ سے زائد موبائل کنیکشنز موجود ہیں جن میں خواتین کے موبائل فون رکھنے کے امکانات مردوں سے 20 فیصد کم ہیں۔
.jpg)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک میں براڈبینڈ صارفین کی تعداد 14 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، ملک میں 2 لاکھ 30 ہزار کلومیٹر سے زائد فائبر نیٹ ورک موجود ہیں تاہم پاکستان کی آئی ٹی اور فری لانس برآمدات 3 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں ہیں۔
پاکستان میں برانچ لیس والٹس کے صارفین کی تعداد 11 سے 12 کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 77 فیصد پاکستانی اپنے پیشے کے انتخاب میں خود کو آزاد محسوس کرتے ہیں، 75 فیصد شہری کاروبار کرنے کی آزادی پر مثبت رائے رکھتے ہیں جبکہ 75 فیصد رائے دہندگان نے خواتین کے لیے ترقی کے مواقع پر اظہار اطمینان کیا۔
جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی لیبر فورس 7 کروڑ سے زائد افراد پر مشتمل ہے، 65 فیصد رائے دہندگان مذہبی آزادی اور مذہبی حقوق کے تحفظ سے مطمئن ہیں جبکہ پاکستان میں تقریباً چھ لاکھ مساجد، 36 ہزار مدارس، 2000چرچ اور سینکڑوں مندر اور گردوارے موجود ہیں-
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 12 کروڑ 85 لاکھ ووٹرز رجسٹرڈ ہیں، خواتین کی لیبر فورس میں شرکت 20 سے 25 فیصد کے درمیان ہے۔
سروے کے مطابق سپریم کورٹ میں 59 ہزار سے زائد مقدمات زیر سماعت ہیں علاوہ ازیں ہائی کورٹس میں ساڑھے 4 لاکھ سے زائد مقدمات، ضلعی عدالتوں میں 17 لاکھ 40 ہزار سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں۔
.jpg)
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ پاکستان کی جیلوں میں ایک لاکھ 2 ہزار سے زائد قیدی، سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے 161 فیصد زیادہ قیدی موجود ہیں۔
پاکستان میں سال 2024 میں مذہبی گستاخی کے تقریباً 344 الزامات رپورٹ ہوئے جن میں 62 فیصد پنجاب اور 30 فیصد الزامات سندھ میں رپورٹ ہوئے مزید براں 243الزامات مسلمانوں پر جبکہ 101 غیر مسلم پر لگائے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 58فیصد پاکستانی مالی تحفظ سے متعلق خدشات رکھتے ہیں، پاکستان میں پرائمری سکول انرولمنٹ 69 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ اعلیٰ تعلیم میں داخلہ کی شرح تقریباً 13 فیصد ہے۔
رپورٹ کے مطابق 62 فیصد شہری خود کو حکومتی فیصلوں پر محدود اثر و رسوخ کا حامل سمجھتے ہیں، 35 فیصد شہری ملک کی مثبت سمت کے بارے میں پر امید ہیں۔
ملک میں 34 فیصد افراد نے مارکیٹ میں مسابقت کو نسبتاً منصفانہ قرار دیا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ شہری شخصی آزادی کو معاشی مواقع، انصاف، سلامتی، مؤثر حکمرانی اور ڈیجیٹل شمولیت سے جوڑتے ہیں، عوام نے قومی استحکام، سلامتی اور ادارہ جاتی تسلسل سے وابستہ اداروں پر نسبتاً زیادہ اعتماد ظاہر کیا جبکہ موسمیاتی تبدیلی، سائبر سکیورٹی، گمراہ کن معلومات، پانی کی قلت، شہری آبادی میں اضافہ، نوجوانوں کی بے روزگاری اور معاشی نا ہمواری مستقبل میں پاکستان کو درپیش اہم چیلنجز ہیں۔