خلاصہ
- دبئی: (سید مدثر خوشنود) دبئی میں گلوبل ایئرپورٹ لیڈرز فورم کے 13ویں ایڈیشن میں مستقبل کے ایئرپورٹ ڈیزائن، اسمارٹ آپریشنز، جدید مسافر سہولتوں اور ایوی ایشن سیکٹر میں نئی ٹیکنالوجیز کے استعمال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
فورم دبئی ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں 25ویں ایئرپورٹ شو کے ساتھ منعقد ہوا، جس میں حکومتی عہدیداروں، صنعت کے ماہرین اور ایوی ایشن کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
دبئی ایوی ایشن سٹی کارپوریشن اور دبئی ساؤتھ کے ایگزیکٹو چیئرمین خلیفہ الزفین نے کہا کہ دبئی کا مقصد صرف دنیا کا سب سے بڑا ایئرپورٹ بنانا نہیں بلکہ مسافروں کو بہترین سفری تجربہ فراہم کرنا ہے۔
ان کے مطابق مستقبل کے ایئرپورٹس کو اس انداز میں ڈیزائن کرنا ہوگا کہ وہ نئی ٹیکنالوجیز اپنا سکیں اور ایوی ایشن انڈسٹری کی بدلتی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھال سکیں۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف آپریٹنگ آفیسر ماجد الجوکر نے مستقبل کے ایئرپورٹس کے لیے تعاون، آپریشنل لچک اور جدت کو تین اہم ترجیحات قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ مسافر ایئرپورٹ کے سفر کو مختلف مراحل کے بجائے ایک مسلسل تجربے کے طور پر دیکھتے ہیں، اس لیے متعلقہ اداروں کے درمیان مشترکہ اہداف، باہمی اعتماد اور مؤثر رابطہ ضروری ہے۔
دبئی ایوی ایشن انجینئرنگ پروجیکٹس کے سینئر منیجر فیوچر آف تھنگز عبداللہ الشمسی نے ’’سٹی ٹرمینل‘‘ پائلٹ منصوبے کے نتائج پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت مسافروں کو شہر کے اندر ہی چیک اِن، سامان جمع کرانے، سکیورٹی اسکریننگ اور پاسپورٹ کنٹرول کی سہولت فراہم کی گئی۔ ان مراحل کی تکمیل کے بعد مسافروں کو محفوظ گاڑیوں کے ذریعے براہِ راست ایئرپورٹ کے کنکورس تک منتقل کیا گیا۔
عبداللہ الشمسی کے مطابق اس آزمائشی منصوبے کے نتیجے میں مجموعی سفری وقت کم از کم 120 منٹ سے گھٹ کر تقریباً 45 منٹ رہ گیا، جو تقریباً 60 فیصد کمی ہے، انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی صرف وقت کی بچت نہیں بلکہ ایئرپورٹ کے روایتی طریقہ کار کو نئے انداز میں ترتیب دینے کے امکانات کو بھی ظاہر کرتی ہے۔
فورم میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل شناخت، بائیومیٹرکس اور حقیقی وقت کے ڈیٹا کے تجزیے کے استعمال پر بھی گفتگو ہوئی۔
ماہرین کے مطابق مستقبل کے جدید ایئرپورٹس میں ٹیکنالوجی اس انداز میں کام کرے گی کہ مسافروں کو غیر ضروری مراحل سے گزرنے کی ضرورت کم ہو، رش کی پیش گوئی ممکن بنائی جاسکے، وسائل بہتر انداز میں تقسیم ہوں اور مسافروں کو ان کی ضروریات کے مطابق معلومات اور سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔
دبئی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر ایوی ایشن اکنامکس اینڈ گروتھ خالد ابراہیم سیف نے کہا کہ ہوائی سفر کی مسلسل ترقی کے لیے معاشی توسیع، انفراسٹرکچر کی ترقی اور آپریشنل کارکردگی کو بیک وقت بہتر بنانا ضروری ہے۔
ان کے مطابق ایئرپورٹس، ایئرلائنز اور ریگولیٹری اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ، اسمارٹ ٹیکنالوجیز اور ڈیٹا کا مؤثر استعمال ایوی ایشن کے نظام کو زیادہ مضبوط، لچکدار اور مسافر دوست بنا سکتا ہے۔
فورم میں اس امر پر زور دیا گیا کہ دبئی ایئرپورٹ ٹیکنالوجی، مسافر سہولتوں، آپریشنل جدت اور مستقبل کے ایئرپورٹ ڈیزائن میں عالمی معیار قائم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد صرف جدید اور بڑے انفراسٹرکچر کی تعمیر نہیں بلکہ مسافروں کے لیے سفر کو زیادہ آسان، تیز، محفوظ اور آرام دہ بنانا ہے۔