تازہ ترین
  • بریکنگ :- سعودی وزیرخارجہ کیساتھ آج کی نشست بہت مفیدرہی،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- سعودی عرب کیساتھ تعلقات کوایک نیامقام دیناہے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- دونوں ممالک اپنےتعلقات کونئی سطح پرلےجانےکاارادہ کرچکےہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- آج پاک سعودی مشاورتی کونسل فورم کوحتمی شکل دی ہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- سعودی قیادت نےوزیراعظم کواکتوبرمیں دورےکی دعوت دی ہے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- سعودی عرب کےساتھ معاشی تعلقات مضبوط بناناچاہتےہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- جب تک پاکستان معاشی طورپرمضبوط نہیں ہوگاہماری دنیامیں عزت نہیں ہوگی،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- پاکستان اورسعودی عرب کاایک دوسرےپراعتمادکارشتہ ہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- 20لاکھ سےزائدپاکستانی سعودی عرب میں موجودہیں،شاہ محمودقریشی

صرف 8 سال کی عمر میں ٹیکنالوجی اور سائنسی علوم پر دسترس رکھنے والا بچہ

Published On 16 June,2021 05:34 pm

کوئٹہ: (دنیا نیوز) دنیاوی علوم میں فلکیات، طبعیات سمیت دیگر سائنسی شعبہ جات کی معلومات حاصل کرنا انسانی ذہن کے لئے بڑا ہی کٹھن مرحلہ ہوتا ہے مگر ان سب سے متعلق سوالات کے جوابات اگر ایک آٹھ سالہ بچہ بڑی ہی آسانی سے دے تو حیرت ہی ہوتی ہے۔

ناقابل یقین ذہانت کے مالک شہیر خالد خان کی عمر آٹھ سال مگر خداداد صلاحیت کی وجہ سے ڈاکٹر شیری یا پروفیسر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

انہوں نے ڈھائی سال کی عمر میں انگریزی زبان سیکھی، شیری فلکیات، طبعیات اور سائنس کے دیگر علوم پر بھی عبور رکھتے ہیں۔

سونامی ہو یا حیاتیات، کیمسٹری ہو یا فلکیات ڈاکٹر شیری صاحب بڑے ہی معصومانہ انداز میں آسانی سے سب کچھ سمجھا دیتے ہیں۔

شہیر خالد خان کا کہنا ہے کہ یہ تمام تر معلومات انھوں نے انٹرنیٹ سے ہی حاصل کی ہیں، انہوں نے خود کو ہر شعبے کا ڈاکٹر بھی قرار دیدیا۔

شہیر تین بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہونے کے باوجود بڑے بھائی کو اکثر پڑھائی میں مدد بھی کرتے ہیں۔

8 سالہ شہیر اب تک مختلف سول اور عسکری اداروں جیسے کیڈٹ کالج، آرمی پبلک سکول اینڈ کالج اور گیریژن آرمی افسران کو لیکچر بھی دے چکے ہیں۔

شہیر نے حال ہی میں ہونے والی نیشنل سکیورٹی ورکشاپ بلوچستان میں (کائنات میں تازہ ترین سائنسی رحجانات) کے موضوع پر لیکچر دیا اور پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات بھی کی۔

شہیر آرمی میڈیکل کالج اینڈ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور اور کوئٹہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے اعزازی فکلیٹی ممبر منتخب ہوئے ہیں۔

شہیر خالد خان سائنس کے شعبے پر عبور حاصل کر کے پاکستان کا نام روشن کرنا چاہتے ہیں۔