اسلام آباد: (حریم جدون) پاکستان میں جدید فائیو جی سروس کے آغاز کا عمل ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہوگیا، وفاقی کابینہ کی فائیو جی سے متعلق سمری منظوری کے باوجود تاحال پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو موصول نہیں ہو سکی، جس کے باعث فائیو جی نیلامی اور لانچ کا عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔
پی ٹی اے ذرائع کے مطابق 25 دسمبر 2025 کو وفاقی کابینہ نے فائیو جی سمری کی منظوری دی تھی تاہم باضابطہ طور پر پی ٹی اے کو پالیسی ڈائریکٹیو کی صورت میں ارسال نہیں کی گئی، سمری منظوری کے بعد اس میں رد و بدل کا امکان موجود ہوتا ہے اس لئے پی ٹی اے اُس وقت تک حتمی کارروائی کا آغاز نہیں کر سکتی جب تک منظور شدہ سمری تحریری موصول نہ ہو۔
پی ٹی اے کابینہ میں منظور سمری کی شقوں سے فی الحال لاعلم ہے، سمری موصول ہوگی تو اتھارٹی کی جانب سے ایک انفارمیشن میمورنڈم جاری کیا جائے گا جس میں فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی سے متعلق قواعد و ضوابط، آکشن رولز اور دیگر تکنیکی تفصیلات شامل ہوں گی، انفارمیشن میمورنڈم کے اجرا کے بعد سپیکٹرم نیلامی کا عمل شروع کیا جا سکے گا۔
ذرائع پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں موبائل سروسز کیلئے تقریباً 274 میگا ہرٹز سپیکٹرم دستیاب ہے، کوشش کی جا رہی ہے کہ فائیو جی کیلئے مجموعی طور پر 600 میگا ہرٹز سپیکٹرم فراہم کیا جائے، موجودہ سپیکٹرم میں مزید 300 میگا ہرٹز شامل کرنے کا امکان ہے جس سے فائیو جی سروس کا معیار اور رفتار میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔
اتھارٹی ذرائع کے مطابق سپیکٹرم نیلامی کے بعد موبائل آپریٹرز ملک بھر میں اپنے بی ٹی ایس ٹاورز پر نئے فائیو جی بینڈز فعال کریں گے، سمارٹ فون کمپنیاں بھی پاکستان میں دستیاب سپیکٹرم کے مطابق نئے موبائل فونز اور موجودہ ڈیوائسز اپ گریڈ کریں گی تاکہ صارفین فائیو جی سروس سے مکمل استفادہ کر سکیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فائیو جی کی تاخیر سے ڈیجیٹل معیشت، آئی ٹی سیکٹر اور سرمایہ کاری کے مواقع متاثر ہو رہے ہیں، کاروباری حلقوں اور ٹیکنالوجی ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فائیو جی سمری کی فوری ترسیل یقینی بنائی جائے تاکہ پاکستان خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ ڈیجیٹل دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائے۔



