شنگھائی: (ویب ڈیسک) چینی کمپنی کے تیار کردہ ایک جدید روبوٹ نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے براہ راست انسانی مداخلت کے بغیر 30 کلوگرام وزنی سور پر بائلیری سرجری کامیابی سے انجام دے دی۔
کمپنی کے مطابق سرجری کے بنیادی مراحل روبوٹ نے خودمختار طور پر انجام دیے، اس روبوٹ نے پہلی ہی کوشش میں سرجری کے 88 فیصد مراحل کامیابی سے مکمل کیے، جبکہ باقی مراحل کے دوران اس نے فوری طور پر خود کو ایڈجسٹ کرتے ہوئے سرجری کے طریقہ کار میں تبدیلیاں کیں اور آپریشن مکمل کر لیا۔
کمپنی کے مطابق روبوٹ کا دماغ نیورون اے آئی ماڈل ہے جو ایک ملٹی موڈل ایکشن جنریشن سسٹم ہے اور اسے 3 ارب پیرا میٹرز پر تربیت دی گئی ہے جن میں 23 ہزار سرجیکل ویڈیو کلپس بھی شامل ہیں، اس ٹریننگ کی بدولت روبوٹ تجربہ کار سرجنز کے کلینیکل فیصلوں کی نقل کرنے اور آپریشن کے دوران تصاویر اور آلات کی حالت کے مطابق حکمتِ عملی بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس تجربے کو دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا مظاہرہ قرار دیا جا رہا ہے جو انسانی کنٹرول کے تحت ریموٹ ٹیلی آپریشن سے مکمل طور پر خودمختار روبوٹک سرجری کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے، تاہم کمپنی نے واضح کیا ہے کہ یہ سرجری مکمل طور پر انسانی سرجنز کی نگرانی میں کی گئی ہے جو کسی بھی وقت کنٹرول سنبھال سکتے تھے۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ یہ مظاہرہ انسانوں میں اس نظام کی حفاظت یا مؤثر ہونے کا براہِ راست ثبوت نہیں اور نہ ہی اسے انسانی سرجری پر فوری طور پر لاگو کیا جا سکتا ہے۔



