واشنگٹن: (ویب ڈیسک) جدید سائنسی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ وائی فائی سگنلز اب دیواروں کے پار بھی انسانی موجودگی اور حرکت کو محسوس کر سکتے ہیں۔
2022 میں کارنیگی میلون یونیورسٹی کے محققین نے ایک ایسا جدید طریقہ متعارف کرایا جس کے ذریعے روزمرہ استعمال ہونے والے وائی فائی سگنلز سے کسی کمرے کے اندر موجود افراد کی پوزیشن اور حرکات کا درست اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اس نظام میں کسی اضافی کیمرے یا سینسر کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ موجودہ وائی فائی روٹرز ہی کو ڈیپ لرننگ الگورتھمز کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔
محققین کے مطابق یہ سسٹم اس طریقے سے کام کرتا ہے کہ جب وائی فائی سگنلز انسانی جسم یا دیگر اشیاء سے ٹکراتے ہیں تو ان میں معمولی سی تبدیلیاں آتی ہیں، ان تبدیلیوں کا تجزیہ ایک نیورل نیٹ ورک کے ذریعے کیا جاتا ہے جو انہیں تھری ڈی سلیوئٹس میں تبدیل کر دیتا ہے۔
دیوار کے دوسری جانب موجود افراد کی حرکات جیسے بیٹھنا، کھڑا ہونا یا چلنا بھی شناخت کی جا سکتی ہیں، روایتی کیمروں یا لائیڈار پر مبنی موشن ڈیٹیکشن سسٹمز کے برعکس یہ ٹیکنالوجی کسی بھی گھر یا دفتر کو بغیر اضافی ہارڈویئر کے ایک بنیادی موشن سینسنگ سسٹم میں تبدیل کر دیتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نظام بزرگ افراد کی نگرانی، گھر کی حفاظت اور ایمرجنسی سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز میں انتہائی مفید ثابت ہو سکتا ہے تاہم اس ٹیکنالوجی کے ساتھ پرائیویسی سے متعلق خدشات بھی سامنے آئے ہیں، اگرچہ یہ نظام کیمروں پر انحصار نہیں کرتا جس سے ذاتی معلومات کے افشا ہونے کا خطرہ نسبتاً کم ہوتا ہے لیکن ماہرین اس کے ذمہ دارانہ استعمال پر زور دے رہے ہیں تاکہ شہریوں کی نجی زندگی محفوظ رہ سکے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنا کر انسانی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس کے اخلاقی اور قانونی پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھا جائے۔



