تازہ ترین
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزیدایک شخص دم توڑگیا
  • بریکنگ :- کوروناسےمتاثر 155مریضوں کی حالت تشویشناک،این آئی ایچ
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 11ہزار 388کوروناٹیسٹ کیےگئے،این آئی ایچ
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 353کیس رپورٹ،این آئی ایچ
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 3.10 فیصدرہی،این آئی ایچ

375سال بعد دنیا کا آٹھواں براعظم دریافت

Published On 28 December,2021 10:07 pm

لاہور:(ویب ڈیسک)ماہرین ارضیات نے 375سال بعد دنیا کا 8واں براعظم دریافت کرلیاہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہم سب اب تک زمین کا جغرافیہ جانتے ہیں، ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ زمین پر 7 براعظم ہیں۔ بلاشبہ آپ کی بات درست ہے لیکن ہو سکتا ہے سائنسدان آپ سے متفق نہ ہوں۔ سائنسدانوں کی جانب سے دنیا کے 8ویں براعظم کی دریافت کی گئی ہے جس کا Zealandia ہے۔

ماہرین ارضیات کے ایک گروپ نے 2017 میں نئے براعظم کی دریافت کا اعلان کرکے خبروں میں جگہ بنائی تھی اور اب برطانوی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ یہ 1.89 ملین مربع میل (4.9 ملین مربع کلومیٹر) کا ایک وسیع براعظم ہے جو کہ مڈغاسکر سے 6گنا بڑا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کچھ عرصے سے دنیا کے انسائیکلوپیڈیا، نقشے اور سرچ انجن اس بات پر قائم تھے کہ دنیا میں 7براعظم ہیں لیکن ماہرین ارضیات کی ٹیم نے نئی دریافت کرکے دنیا کو حیران کردیا اور بتایا کہ 8واں براعظم میں موجود ہے۔

زی لینڈیا اصل میں گونڈوانا کے قدیم عظیم براعظم کا حصہ تھا جو تقریبا 550 ملین سال قبل بنا تھا اور جنوبی نصف کرہ کی تمام اراضی اس میں اکٹھی ہوئی تھی۔ مشرق کی جانب اس نے ایک کونے پر قبضہ کیا ہوا تھا جہاں اس کی سرحدیں متعدد دیگر سے ملحق تھیں بشمول مغربی انٹارکٹیکا کے آدھے حصے اور تمام مشرقی آسٹریلیا کے۔

پرت کی گم گہرائی اور زیر آب ہونے کے باوجود، ماہرین ارضیات جانتے ہیں کہ یہ ایک براعظم ہے اور اس کی وجہ اس پر پائے جانے والے پتھر ہیں۔ براعظمی پرت آتشیں چٹان، میٹامورفک اور سیڈیمینٹری راک یعنی رسوبی چٹانوں سے بنی ہوتی ہے۔ جیسے گرینائٹ، سکسٹ اور لائیم سٹون یعنی چونا پتھر جب کہ سمندری فرش عام طور پر صرف باسالٹ یا سنگ سیاہ جیسی آتشیں چٹان کا ہوتا ہے۔