تازہ ترین
  • بریکنگ :- لاہور:وزیراعلیٰ حمزہ شہباز کی زیرصدارت اجلاس میں اہم فیصلے
  • بریکنگ :- کسی کوقانون ہاتھ میں لینےکی اجازت نہیں دی جائےگی،اجلاس میں فیصلہ
  • بریکنگ :- 16 ایم پی اوکی فہرست میں موجودافرادکوفوری گرفتارکرنےکی ہدایت
  • بریکنگ :- عوام کی جان ومال کےتحفظ کیلئےبھرپوراقدامات اٹھائےجائیں،حمزہ شہباز
  • بریکنگ :- امن وامان کیلئےمزیداقدامات بھی کیےجائیں،وزیراعلیٰ پنجاب
  • بریکنگ :- محکمہ داخلہ پنجاب میں اسپیشل کنٹرول روم قائم،پولیس افسران کوالرٹ رہنےکی ہدایت

چینی صدر شی جن پنگ کا فوج کو ممکنہ جنگ کے لیے تیار رہنے کا حکم

Published On 14 October,2020 05:02 pm

بیجنگ: (ویب ڈیسک) چین کے صدر شی جن پنگ نے اپنی فوج پیپلز لبریشن آرمی کو ممکنہ جنگ کے لیے تیار رہنے کا حکم دے دیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کے صدر شی جن پنگ نے گوانگ ڈونگ صوبے کے ایک فوجی اڈے کے دورے کے موقع پر پیپلز لبریشن آرمی کی میرین کور سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوج ہائی الرٹ پر رہے اور دشمن کے ممکنہ وار کے منہ توڑجواب کے لیے خود کو تیار رکھے۔

امریکی خبر رساں ادارے سی این این کے مطابق صدر شی پنگ کا یہ فوجی دورہ اس وقت ہوا جب چین اور امریکہ کے مابین کئی دہائیوں کے دوران تائیوان اور کورونا وائرس وبائی امور میں اختلافات کے باعث تناﺅ اپنے عروج پر ہے اور واشنگٹن اور بیجنگ کے مابین تناﺅ میں اضافہ ہورہا ہے.

یاد رہے کہ وائٹ ہاؤس نے امریکی کانگریس کو مطلع کیا کہ وہ تائیوان کو تین جدید ہتھیاروں کے نظام کی فروخت کے ساتھ آگے بڑھنے کا منصوبہ بنا رہا ہے جس میں جدید اعلی متحرک آرٹلری راکٹ سسٹم بھی شامل ہے.

جس پربیجنگ کی جانب سے سخت ردعمل میں وزارت خارجہ کے ترجمان ژاﺅ لیجیان نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کے کسی بھی منصوبے کو فی الفور منسوخ کریںاورامریکہ تائیوان فوجی تعلقات کو ختم کیا جائے. اگرچہ تائیوان کو کبھی بھی چین کی حکمران کمیونسٹ پارٹی کے زیر کنٹرول نہیں رکھا گیا تاہم بیجنگ اس جزیرہ نما خطے کا دعویدار رہا ہے تاہم چین کا کہنا ہے کہ وہ تائیوان پر قبضے کے لیے فوجی طاقت استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا.

چند ہفتے قبل ایک تقریر میں امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر کا کہنا تھاک ہ چین بحری طاقت میں امریکا کا مقابلہ نہیں کرسکتا، چین کے توسیع پسندانہ عزائم خطے کے لیے مہلک ثابت ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ چین اور روس طاقت کے توازن کو اپنے حق میں کرنے کے لیے معاشیات ، سیاسی بغاوت اور فوجی طاقت کا استعمال کر رہے ہیں۔