تازہ ترین
  • بریکنگ :- ترجمان دفترخارجہ کی صحافیوں سےغیررسمی گفتگو
  • بریکنگ :- اوآئی سی وزرائےخارجہ کونسل کااجلاس 19دسمبرکواسلام آبادمیں ہوگا،ترجمان
  • بریکنگ :- اسلامی ممالک کےوزرائےخارجہ کوشرکت کی دعوت دی گئی، ترجمان
  • بریکنگ :- اجلاس میں سلامتی کونسل کےمستقل ارکان کوشرکت کی دعوت،ترجمان
  • بریکنگ :- یورپی یونین،اقوام متحدہ اوراس کی امدادی ایجنسیوں کوشرکت کی دعوت،ترجمان
  • بریکنگ :- اجلاس میں افغانستان کااعلیٰ سطح وفدشرکت کرےگا،ترجمان
  • بریکنگ :- اوآئی سی سیکرٹریٹ کےآفیشلزاجلاس کی تیاریوں کاجائزہ لیں گے،ترجمان
  • بریکنگ :- اوآئی سی وزرائےخارجہ کاغیرمعمولی اجلاس 1980میں ہواتھا،ترجمان
  • بریکنگ :- 41سال بعدپاکستان افغانستان پراوآئی سی وزرائےخارجہ اجلاس کی میزبانی کررہاہے
  • بریکنگ :- افغانستان کوامدادنہ پہنچائی گئی تومعاشی بحران جنم لےسکتاہے، ترجمان

لداخ: ماضی میں قبضہ کیے گئے علاقہ سے بھارت دستبردار

Published On 12 February,2021 04:53 pm

نئی دہلی (روزنامہ دنیا) لداخ میں بھارتی فوج ماضی کے زیر قبضہ علاقوں سے دستبردار ہوگئی،اب ان علاقوں میں اسے گشت کی بھی اجازت نہیں ہوگی،ماہرین کے مطابق فنگر 3 اور فنگر 8 کے درمیان 10 کلومیٹر کے علاقے کو بفر زون قرار دیاگیاہے ۔

بھارتی فوج 1962 کی جنگ کے بعد سے اس علاقے میں پٹرولنگ کرتی رہی ہے ، مگر اب اسے اجازت نہیں ہو گی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ راج ناتھ سنگھ نے اپنے بیان میں اپریل سے پہلے کی صورتحال کی بحالی کا دعویٰ نہیں کیا جوکہ بھارت کا بنیادی مطالبہ رہا ہے ۔ البتہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دوطرفہ انخلا سے بڑی حد تک گزشتہ سال کی کشمکش سے قبل کی صورتحال بحال ہو جائیگی۔

رپورٹ کے مطابق انخلا کے معاہدے میں صرف وسطی لداخ کا پنگونگ تسو جھیل سیکٹر شامل ہے ،شمالی لداخ میں دولت بیگ اولڈی کے قریب ڈپسانگ سیکٹر کا کوئی ذکر نہیں جہاں چینی فوج نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول پار کرکے 15 سے 18 کلو میٹر تک علاقے پر تسلط جما یا، اس علاقے پر بھارت کا ہمیشہ سے دعویٰ اور بھارتی فوج پٹرولنگ کرتی رہی ہے ۔

ادھردوطرفہ معاہدے کے تحت چین اور بھارت نے جھیل پنگونگ کے کناروں سے ٹینکوں اور فوجی گاڑیوں سمیت دیگر بھاری سامان ہٹانا شروع کر دیا۔ فوجی ذرائع نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں بھارت نے اپنے ٹینک قریبی علاقے نیوما منتقل کر دیئے جبکہ چین اپنے ٹینک قریبی چھاؤنیوں میں منتقل کر رہا ہے ، جھیل کے دونوں کناروں سے انخلا سات روز کے اندر مکمل کیا جائیگا۔

بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا کہ بیجنگ کیساتھ معاہدے کے تحت دونوں ملک مرحلہ وار پنگوگ جھیل کے علاقے سے اپنی فورسز کم کریں گے اور کشمکش کے آغاز سے قبل کی صورتحال کو بتدریج بحال کیا جائیگا۔

انہوں نے کہا کہ فوجی انخلا بدھ سے شروع ہوا، دونوں فوجیں بتدریج ڈھانچے بھی ختم کر دیں گی جوکہ اپریل کے بعد بنائے گئے ، جھیل کے شمال میں پٹرو لنگ سمیت فوجی سرگرمیاں عارضی طور پر روک دی گئی ہیں۔