پیرس: (ویب ڈیسک) فرانس کی خاتون اوّل بریگِٹ میکرون کو ٹرانس جینڈر قرار دینے والے 10 افراد کو سائبر ہراسمنٹ کا مجرم قرار دے دیا گیا۔
مجرمان نے انٹرنیٹ پر دعوے کیے تھے کہ بریگٹ کی پیدائش دراصل بطور مرد ہوئی تھی اور ان کا نام جین مائیکل ٹروگنیس تھا، عدالت نے 8 مردوں اور 2 خواتین کو سائبر ہراسمنٹ کا مجرم قرار دیا ہے۔ تمام کو 8 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے، ملزمان کی عمریں 41 سے 65 سال کے درمیان ہیں۔
ان پر الزام تھا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر متعدد پوسٹس کے ذریعے یہ جھوٹا بیانیہ پھیلایا کہ صدر ایمانوئل میکرون کی اہلیہ مرد کے طور پر پیدا ہوئیں، ان میں سے بعض پوسٹس کو ہزاروں لوگوں نے دیکھا۔
بریگِٹ میکرون اکتوبر میں ہونے والی دو روزہ سماعت میں عدالت میں پیش نہیں ہوئیں، تاہم انہوں نے اتوار کے روز فرانسیسی ٹی وی چینل سے گفتگو میں کہا کہ انہوں نے یہ قانونی کارروائی مثال قائم کرنے کے لیے شروع کی تاکہ آن لائن ہراسانی کے خلاف واضح پیغام دیا جا سکے۔
خیال رہے کہ ایمانوئل میکرون کی شادی 2007 میں ہوئی اور وہ 2017 سے فرانس کے صدر ہیں، جوڑے کی پہلی ملاقات ہائی سکول میں ہوئی جہاں صدر ایک طالب علم تھے اور وہ ایک ٹیچر تھیں۔
بریگِٹ میکرون اس وقت بریگِٹ آزیری تھیں جو شادی شدہ اور 3 بچوں کی ماں تھیں، ایمانوئل میکرون اپنے ہائی سکول کے آخری سال کے لیے پیرس چلے گئے لیکن انہوں نے بریگِٹ سے شادی کرنے کا وعدہ کیا، بعد میں وہ ان کے ساتھ شامل ہونے کے لیے فرانسیسی دارالحکومت چلی گئیں اور پہلے شوہر سے طلاق لے لی، پھر آخرکار دونوں کی شادی ہو گئی۔



