خلاصہ
- واشنگٹن: (دنیا نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ کسی نے مجھے قائل نہیں کیا، ایران پر حملہ نہ کرنے کیلئے میں نے اپنے آپ کو قائل کیا۔
وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا عرب ممالک اور اسرائیلی حکام نے انہیں ایران پر فوری حملہ نہ کرنے کیلئے قائل کیا؟اس پر صدر ٹرمپ نے برملا کہا کہ تاحال حملہ نہ کرنے کا فیصلہ انہوں نے کسی کے دباؤ یا تجویز پر نہیں بلکہ ذاتی طور پر لیا اور اس کی ایک اہم وجہ بھی ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران نے کل 800 سے زائد گرفتار مظاہرین کو پھانسی دینے کا اعلان کیا تھا لیکن کسی کو پھانسی نہیں دی گئی، جب ایران نے یہ پھانسیاں منسوخ کر دیں تو میں نے بھی حملہ کرنے کے اپنے فیصلے پر نظرثانی کی تھی۔
یہ بیان صدر ٹرمپ کی جانب سے اب تک کا سب سے واضح اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ انہوں نے ایران میں مظاہرین کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن کے تناظر میں فوجی کارروائی روکنے کا فیصلہ کیوں کیا۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز فرانسیسی خبر ایجنسی نے سعودی حکام کے حوالے سے لکھا تھا کہ سعودی عرب، قطر اور عمان نے ایران پر ممکنہ امریکی حملہ رکوانے کیلئے آخری لمحات میں بھرپور سفارتی کوششیں کیں جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو ایک موقع پر دینے پر رضا مند ہوگئے۔
اس کے بعد امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران پر ممکنہ امریکی حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔