روسی صدر کی فلسطینی ہم منصب سے ملاقات، غزہ امن بورڈ میں شمولیت پر ایک ارب ڈالر کی پیشکش

روسی صدر کی فلسطینی ہم منصب سے ملاقات، غزہ امن بورڈ میں شمولیت پر ایک ارب ڈالر کی پیشکش

روسی صدر نے فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات میں غزہ امن بورڈ میں شمولیت پر ایک ارب ڈالر فراہم کرنے کی پیشکش کی، پیوٹن نے کہا یہ رقم سب سے پہلے فلسطینی عوام کی حمایت کیلئے مختص کی جائے گی۔

صدر پیوٹن کا مزید کہنا تھا کہ رقم غزہ پٹی کی تعمیر نو اور فلسطینی مسائل کے حل کیلئے استعمال کی جائے گی، امن بورڈ کے فنڈز امریکا میں منجمد روسی اثاثوں سے بھی فراہم کئے جا سکتے ہیں۔
فلسطینی صدر دو روزہ دورے پر روس پہنچے ہیں، صدر پیوٹن نے ملاقات کے آغاز میں فلسطین کے ساتھ روسی تعلقات کو گہرے اور تاریخی قرار دیتے ہوئے یاد دلایا کہ سوویت یونین نے 1988ء میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا تھا اور ماسکو آج بھی اسی پوزیشن پر قائم ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جامع امن کا واحد راستہ دو ریاستی حل اور فلسطینی ریاست کا مکمل قیام ہے، روسی صدر نے بتایا کہ روس نے غزہ میں بحران کے دوران فلسطینی امداد کے سلسلے میں 800 ٹن سے زائد انسانی سامان بھیجا اور 32 امدادی آپریشن انجام دیئے، جن میں گندم اور دیگر اشیائے ضروریہ شامل تھیں۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے روس کو ’’پچاس سالہ دوست‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس نے ہمیشہ فلسطینی عوام کی سیاسی، سفارتی اور مالی مدد کی ہے، انہوں نے اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہ کاریوں کا ذکر بھی کیا اور بتایا کہ غزہ میں ہزاروں افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ 85 فیصد بنیادی انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے۔

محمود عباس نے کہا کہ فلسطینی عوام اپنی زمین نہیں چھوڑیں گے اور کسی بھی بیرونی کوشش کے تحت جبری نقل مکانی قبول نہیں کریں گے، انہوں نے روس کی ثالثی کوششوں اور دو ریاستی حل کی حمایت کو سراہا۔