مودی کا دورۂ اسرائیل: ایران حملے سے قبل یاترا پر عالمی اور داخلی سطح پر تنقید

مودی کا دورۂ اسرائیل: ایران حملے سے قبل یاترا پر عالمی اور داخلی سطح پر تنقید

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس دورے کی ٹائمنگ نے بھارت کی خارجہ پالیسی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق مودی نے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران ایران کے خلاف ممکنہ تعاون کی یقین دہانی کرائی، بعض بین الاقوامی مبصرین کا دعویٰ ہے کہ یہ دورہ اسرائیل کی متنازع حکومت کیلئے سیاسی سہارا ثابت ہوا۔

امریکی تجزیہ کار ڈوگلس میک گریگور نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران امریکی بحریہ بھارتی بندرگاہیں استعمال کر رہی ہے، تاہم ان دعوؤں پر باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ادھر بھارتی اپوزیشن جماعتوں، بشمول کانگریس اور دیگر رہنماؤں نے اس دورے کو روایتی بھارتی خارجہ پالیسی سے انحراف قرار دیا ہے، اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ایران کے معاملے پر خاموشی اور اسرائیل سے قربت نے بھارت کی غیر جانبدار ساکھ کو متاثر کیا ہے۔

کچھ سیاسی مبصرین نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا یہ دورہ چابہار بندرگاہ اور کاروباری مفادات کے تحفظ سے متعلق تھا۔

واضح رہے کہ اڈانی گروپ اسرائیل کی حیفہ اور ایران کی چابہار بندرگاہ میں سرمایہ کاری رکھتا ہے، ناقدین کے مطابق حکومت کو وضاحت دینی چاہیے کہ قومی مفادات اور کاروباری تعلقات میں کس کو ترجیح دی گئی۔

بھارتی حکومت کی جانب سے ان الزامات پر تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ملک کے اندر اور بیرونِ ملک اس دورے پر بحث جاری ہے۔