خلاصہ
- ماسکو: (شاہد گھمن سے) روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری غیر معمولی کشیدگی اور ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی کارروائیاں خطے کو شدید عدم استحکام سے دوچار کر رہی ہیں، جبکہ اس بحران کا کوئی فوجی حل موجود نہیں، انہوں نے زور دیا کہ طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی و سفارتی راستہ اختیار کیا جانا چاہئے۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ماریہ زخارووا نے کہا کہ نام نہاد ایرانی خطرہ دراصل ایک خود ساختہ اور مبالغہ آمیز بیانیہ تھا، جسے ایران میں آئینی نظام کو بزور طاقت تبدیل کرنے کے ایک دیرینہ منصوبے کے جواز کے طور پر استعمال کیا گیا، واشنگٹن اب کھلے عام ایران میں رجیم چینج کی بات کر رہا ہے، جو ایک خودمختار ریاست کے داخلی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی غیر ذمہ دارانہ کارروائیاں بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں اور پورے مشرقِ وسطیٰ کو افراتفری کی دلدل میں دھکیل رہی ہیں، ایران کی جوہری تنصیبات پر جاری حملے نہ صرف عالمی عدم پھیلاؤ کے نظام کو کمزور کر رہے ہیں بلکہ ان سے حقیقی اور سنگین ریڈیولوجیکل خطرات بھی پیدا ہو سکتے ہیں، جو محض کاغذی اندیشے نہیں بلکہ زمینی حقیقت بن سکتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی قیادت داخلی سیاسی صورتحال کو کنٹرول میں رکھے ہوئے ہے اور ملک میں انتشار، اقتدار کے خلا یا انسانی بحران کو جنم لینے سے روک رہی ہے، امریکا اور اسرائیل خود بھی اس بات سے لاعلم ہیں کہ ایران کے گرد کشیدگی کب تک جاری رہے گی، کیونکہ پہلے یہ دعویٰ کیا گیا کہ اہداف حاصل ہو چکے ہیں، اور اب کہا جا رہا ہے کہ کارروائیاں غیر معینہ مدت تک جاری رہ سکتی ہیں۔
روسی وزارتِ خارجہ نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ تیل بردار جہازوں پر حملوں اور عسکری کارروائیوں کے نتیجے میں ماحولیاتی مسائل پیدا ہو رہے ہیں، جن کے اثرات دور دراز سیاحتی علاقوں تک پہنچ رہے ہیں، بعض ساحلی علاقوں میں ایندھن کے آثار نمودار ہونا شروع ہو گئے ہیں، جس سے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ روس تمام فریقین پر زور دیتا ہے کہ وہ اختلافات کے حل کے لیے طاقت کا راستہ ترک کریں اور فوری طور پر سیاسی و سفارتی عمل کی جانب لوٹیں، روس، اگر متعلقہ فریقین کی جانب سے درخواست کی گئی، تو ایران کے گرد کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے، روس بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر اور خطے کے تمام ممالک کے سلامتی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے پرامن حل کی تلاش میں معاونت کے لیے آمادہ ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی کارروائیوں میں مزید شدت کو روکنے کے لیے فعال کردار ادا کریں، اسی طرح عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی قیادت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ممکنہ ریڈیولوجیکل خطرات کا غیر جانبدارانہ اور تکنیکی بنیادوں پر جائزہ لے۔
روسی شہریوں کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے زخارووا نے بتایا کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں تقریباً پچاس ہزار روسی سیاح موجود ہیں، جبکہ چھ سے آٹھ ہزار افراد فضائی حدود کی بندش کے باعث بعض ایشیائی ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں۔ تین مارچ تک دو سو بانوے روسی شہریوں کو ایران سے نکالا جا چکا ہے، جن میں سے زیادہ تر کو آذربائیجان اور آرمینیا کے راستے منتقل کیا گیا۔
وزارتِ خارجہ نے روسی شہریوں کو متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین، عمان، قطر اور سعودی عرب کا سفر صورتحال کے معمول پر آنے تک مؤخر کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ سیاحوں اور صحافیوں کو مقامی قوانین، خصوصاً فوٹوگرافی اور ویڈیو ریکارڈنگ سے متعلق ضوابط کا خیال رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
زخارووا نے یوکرین سے متعلق معاملات پر بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ اور فرانس کی جانب سے روسی انٹیلی جنس سروس کی ان معلومات کی تردید قابلِ قبول نہیں، جن میں یوکرین کو جوہری ہتھیاروں کی منتقلی کے مبینہ منصوبوں کا ذکر کیا گیا ہے، نیٹو کے اندر یورپی جوہری جزو کو وسعت دینے کی کوششیں اور فرانس کی جانب سے اپنے جوہری ذخیرے میں توسیع کا عندیہ عالمی سلامتی کے لیے خطرناک رجحان ہے اور یہ اقدامات جوہری اسلحہ کی نئی دوڑ کو ہوا دے سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں کسی بھی اسٹریٹجک سلامتی معاہدے میں نیٹو کے تمام رکن ممالک کی جوہری صلاحیتوں کو مدنظر رکھنا ہوگا، زخارووا کے مطابق امریکہ، برطانیہ اور فرانس جیسے جوہری طاقتوں کے اقدامات براہِ راست جوہری اسلحہ کی دوڑ کو اکسا رہے ہیں، جبکہ سویڈن کی جانب سے ممکنہ جنگ کی صورت میں جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی کے منصوبے یورپ میں اسٹریٹجک استحکام کو کمزور کرتے ہیں۔
یوکرین کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی پیش رفت کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے مجاز روسی صدارتی معاون ولادیمیر میدنسکی ہیں، اور جیسے ہی کسی نئے دورِ مذاکرات سے متعلق معلومات دستیاب ہوں گی، عوام کو آگاہ کر دیا جائے گا، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال مغربی ممالک کو کیف کو اسلحہ فراہم کرنے سے نہیں روکے گی۔
روسی وزارتِ خارجہ کے مطابق موجودہ عالمی حالات میں طاقت کا استعمال مسائل کو مزید پیچیدہ بنائے گا، جبکہ پائیدار امن اور استحکام کے لیے سفارتکاری، مکالمہ اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔