جنگ کا 22 واں روز: ایران میں امریکی اسرائیلی جارحیت کے سائے میں عید منائی گئی

جنگ کا 22 واں روز: ایران میں امریکی اسرائیلی جارحیت کے سائے میں عید منائی گئی

طبی حکام کے مطابق امریکا اسرائیل کی وحشیانہ بمباری سے لبنان اور ایران میں شہادتوں کی تعداد 2500 سے تجاوز کر گئی ہے۔

ادھر جنگ بندی نہ کرنے کے بیان کے فوراً بعد امریکی صدر ٹرمپ کا ایک اور متضاد بیان سامنے آگیا، سوشل میڈیا پر کہا کہ ہم مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائیوں کو ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں‏۔

ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کا تحریری پیغام جاری کر دیا گیا، جس میں انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام کے درمیان اتحاد نے دشمن کی صفوں میں دراڑ پیدا کر دی ہے، دشمن نے ایران کی طاقت کا غلط اندازہ لگایا تھا، امریکا اور اسرائیل کو لگتا تھا کہ ایک یا دو دن کے حملوں کے بعد ایرانی عوام ایران میں حکومت کا تختہ الٹ دیں گے، لیکن ان کے یہ سارے اندازے غلط ثابت ہوئے۔

اپنے پیغام میں انہوں نے پاکستان کی اہمیت کا بالخصوص ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد کو بھی پاکستان بہت پسند تھا اور یہ ملک ان کے لیے بھی بہت اہمیت رکھتا ہے، انہوں نے خطے کے دوسرے ممالک کے بارے میں کہا کہ وہ بیرونی مداخلت کی وجہ سے مشکلات میں آ گئے، ایران اپنے برادر ممالک سے بہتر تعلقات کی خواہش رکھتا ہے۔

بیلسٹک میزائلوں سے 3,800 کلومیٹر دور امریکی برطانوی فوجی اڈے پر حملہ

امریکی میڈیا کے مطابق ایران نے امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ فوجی اڈے ڈیاگو گارشیا پر درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے دو بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔

امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل نے متعدد ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی ہے کہ دونوں میزائل بحر ہند میں واقع فوجی اڈے کو نہیں لگے، ایران سے ڈیاگو گارشیا کا فاصلہ تقریباً 3,800 کلومیٹر ہے۔

تہران پر فضائی حملے

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی دارالحکومت تہران کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے کیے گئے۔

ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق کرج، اصفہان شہر پر بھی فضائی حملے کیے گئے۔

امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز میں نئے حملے کیے گئے، ایرانی ڈرونز اور نیوی جہازوں کو نشانہ بنایا، اسرائیل نے بیروت میں بھی حزب اللہ کے مراکز پر حملے کیے۔

جاپانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے کیلئے تیار ہیں: عباس عراقچی

کیوڈو نیوز کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے جاپانی حکام کے ساتھ بات چیت پہلے ہی شروع ہو چکی ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں موجود رکاوٹوں میں عارضی نرمی لانا ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ کے اس بیان کے پس منظر میں جاپانی حکومت کے ایک اہلکار نے کیوڈو نیوز کو بتایا کہ ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات ہی آبنائے ہرمز کا محاصرہ ختم کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔

جاپان کی وزارتِ خارجہ کے ایک اور اہلکار نے کیوڈو نیوز کو بتایا کہ عباس عراقچی کے بیان کے اصل مقاصد کا احتیاط سے جائزہ لینا ضروری ہے۔

برطانیہ کا 40 ایرانی ڈرونز تباہ کرنے کا انکشاف

مشرق وسطی میں جاری اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے دوران برطانوی پائلٹوں اور بندوق بردار اسکواڈ کی جانب سے ابتک 40 سے زائد ایرانی ڈرونز کو تباہ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

برطانوی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق مسلح افواج کے وزیر ال کارنس نے چونکا دینے والے اعداد و شمار کا اس وقت انکشاف کیا۔

امریکا نے عارضی طور پر ایرانی خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی اجازت دے دی

امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ نئے لائسنس کے تحت جہازوں پر لوڈ تیل کی فروخت کی اجازت ہوگی، نیا لائسنس 19 اپریل تک فعال رہے گا۔

ادھر ایران نے کہا ہے کہ پابندیاں ختم کرنےکی بات صرف خریداروں کوامید دلانے کےلیےہے، عالمی منڈی میں فروخت کیلئے کوئی تیل نہیں، امریکی فیصلہ خام تیل قیمت میں کمی کے نفسیاتی حربے کے سوا کچھ نہیں۔

 عراق میں امریکی اڈے پر حملہ 

روسی میڈیا کے مطابق عراق میں امریکی اڈے پر حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، ایئربیس کا ریڈار سسٹم بے کار کر دیا گیا ۔

گزشتہ روز عراق سے امریکی شہریوں کو فوری نکلنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

اسرائیل پر میزائل حملوں کی 67 ویں لہر، حیفہ اورتل ابیب کے25 مقامات کو نشانہ بنایا

ایران نے اسرائیل پر میزائل حملوں کی 67 ویں لہر شروع کر دی، اسرائیلی شہر حیفہ اورتل ابیب کے 25 مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔

پاسداران انقلاب نے بتایا کہ اسرائیلی شہروں پر خرم شہر اور غدر ملٹی وار ہیڈ میزائل سے حملہ کیا ہے، ایرانی جزیروں پر دوبارہ حملہ ہوا تو یو اے ای کے راس الخیمہ کو نشانہ بنائیں گے۔

دوسری جانب امریکا نے آبنائے ہرمز میں نئے حملوں کا آغاز کر دیا جس میں ایرانی ڈرونز اور نیوی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ادھر ‏ایرانی دارالحکومت تہران کے مختلف علاقوں پرفضائی حملے ہوئے۔ ایرانی خبرایجنسی کے مطابق کرج، اصفہان شہرپر بھی فضائی حملے کیے گئے۔

سوئٹزرلینڈ نے امریکا کو اسلحہ کی برآمدات روک دیں

یورپی ملک سوئٹزرلینڈ نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے تناظر میں امریکا کو اسلحہ برآمدات کی منظوری روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔

سوئٹزرلینڈ کا کہنا ہے کہ ایسے ممالک کو جنگی سازوسامان کی برآمد کی اجازت نہیں دی جا سکتی جو ایران کے ساتھ بین الاقوامی مسلح تنازع میں شامل ہیں۔