طوفانی بارشیں اور ہماری ذمہ داریاں!

طوفانی بارشیں اور ہماری ذمہ داریاں!

اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ دنیا کا نظام اسباب کے تحت چلتا ہے، لیکن اسباب صرف وہ نہیں جو ہماری آنکھوں سے نظر آتے ہیں، ظاہری اسباب کے ساتھ ساتھ باطنی اسباب بھی اپنی جگہ حقیقت رکھتے ہیں، اس لیے ایسے مواقع پر نہ صرف عملی اقدامات ضروری ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع، توبہ اور استغفار بھی انتہائی اہم ہیں۔

بارشوں کے اثرات اور نقصانات

حالیہ طوفانی بارشوں اور تیز ہواؤں نے ملک کے مختلف شہری اور دیہی علاقوں میں معمولاتِ زندگی کو متاثر کیا ہے، کئی مقامات پر گلیوں اور سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے آمدورفت میں مشکلات پیش آئیں، کئی علاقوں میں بجلی کے فیڈر ٹرپ ہونے سے کچھ وقت کیلئے بجلی کی فراہمی بھی معطل رہی، جس سے روزمرہ زندگی اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، اسی طرح بعض علاقوں میں بارش کے باعث کھڑی فصلوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے، اگر بارشوں کا یہ سلسلہ طویل ہوگیا تو زرعی شعبے کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

حکومت کی ذمہ داریاں

اس قدرتی آفت کے بعد حکومت پر چند اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔

(1) سب سے پہلے نکاسی آب کے نظام کو مؤثر بنایا جائے تاکہ بارش کا پانی گلیوں اور سڑکوں پر کھڑا نہ رہے اور وبائی امراض نہ پھیلیں۔

(2) جن خاندانوں کے گھر منہدم ہوگئے ہیں، ان کیلئے فوری رہائش، خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات کا انتظام کیا جائے۔

(3) بارشوں کے بعد پھیلنے والی بیماریوں کی روک تھام کیلئے ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولتیں بڑھائی جائیں اور ضروری ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

(4) متاثرہ قبرستانوں، مساجد اور دیگر دینی مقامات کی مرمت اور نکاسی آب کے مستقل انتظامات کیے جائیں۔

عوام کی ذمہ داریاں

صرف حکومت ہی نہیں بلکہ عوام پر بھی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، صفائی کا خیال رکھا جائے، گندگی کو نالوں میں نہ پھینکا جائے، نکاسی آب میں رکاوٹ بننے والے اسباب سے اجتناب کیا جائے اور قدرتی آفات کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں، غیر ضروری سفر سے بچا جائے اور متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کیا جائے۔

بارش نعمت بھی ہے

یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ بارش اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، اسی سے زمینیں سیراب ہوتی ہیں، فصلیں اگتی ہیں، باغات سرسبز ہوتے ہیں، نہریں اور زیر زمین پانی کے ذخائر بھر جاتے ہیں اور موسم میں خوشگواری پیدا ہوتی ہے، البتہ جب بارش معمول سے بڑھ جائے یا مناسب انتظامات نہ ہوں تو یہی نعمت آزمائش کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

رسول اللہﷺ بارش کیلئے اللہ تعالیٰ سے دعا فرماتے تھے، بارش کے وقت رحمت کی امید رکھتے تھے اور اگر بارش زیادہ ہو جاتی تو اللہ تعالیٰ سے اس کے ضرر سے حفاظت کی دعا بھی کرتے تھے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کا تعلق ہر حال میں اپنے رب سے جڑا رہتا ہے۔

مصیبت سے سبق لینے کی ضرورت

اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ ہر مصیبت لازماً عذاب نہیں ہوتی، بعض اوقات یہ آزمائش ہوتی ہے اور بعض اوقات انسان کو اپنے اعمال پر غور کرنے کا موقع دیتی ہے، قرآن کریم میں بار بار یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ جب قومیں اللہ تعالیٰ کے احکام سے روگردانی کرتی ہیں تو مختلف قسم کے مصائب ان پر آتے ہیں، جبکہ بہت سے گناہوں سے اللہ تعالیٰ درگزر بھی فرماتا ہے، اس لیے ایسے حالات میں مایوسی کے بجائے اپنے اعمال کا جائزہ لینا، توبہ و استغفار کرنا، اللہ تعالیٰ سے رحمت کی دعا مانگنا اور اپنی زندگی کو اس کی اطاعت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنا مومن کا شیوہ ہونا چاہیے۔

قبرستانوں اور مقدس مقامات کا تحفظ

شدید بارشوں کے باعث کئی قبرستانوں میں پانی جمع ہو جاتا ہے جس سے قبروں کو نقصان بھی پہنچتا ہے، قبرستان اگرچہ عبرت کی جگہ ہیں، لیکن شریعت نے ان کے احترام کا حکم دیا ہے، اس لیے نکاسی آب اور حفاظتی انتظامات پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔

ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

طوفانی بارشیں ہمیں دو اہم سبق دیتی ہیں، ایک یہ کہ ہم ظاہری اسباب اختیار کریں ،اس لیے مضبوط انفراسٹرکچر، بہتر نکاسی آب اور مؤثر ہنگامی منصوبہ بندی وقت کی ضرورت ہے، دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع، توبہ، استغفار اور اجتماعی اصلاح بھی ہماری زندگی کا لازمی حصہ ہونی چاہیے، جب حکومت اپنی ذمہ داریاں ادا کرے، عوام احتیاط اختیار کریں اور معاشرہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف متوجہ ہو تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت نازل فرمائے گا اور ہمیں ہر قسم کی آفات سے محفوظ رکھے گا۔